خواتین کی کشتی احتجاج کی نذر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں خواتین کی کشتیوں کا پہلا مقابلہ متعدد اسلامی تنظیموں کے احتجاج اور دھمکیوں کے بعد ملتوی کر دیا گیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے مقابلے کے مقام پر دھاوا بولنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے خواتین کی کشتی کے مقابلے کو غیر اخلاقی اور فحش قرار دیا تھا۔ بنگلہ دیش بھر سے خواتین نے اس مقابلے میں حصہ لینا تھا۔ کشتی کی سرکاری فیڈریشن کے مطابق وہ چند ماہ میں یہ مقابلہ منعقد کرانے کے قابل ہو جائے گی۔ فیڈریشن کی یہ یقین دہانی کہ مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین مکمل لباس پہن کر حصہ لیں گی، اسلامی مظاہرین کو قائل نہ کر سکی۔ ڈیلی سٹار اخبار کے مطابق فیڈریشن کے ڈائریکٹر طبًی الرحمان کا کہنا ہے: ’یہ سب کچھ ایک غلط فہمی کے نتیجے میں ہوا۔ احتجاج کرنے والوں کا خیال شاید یہ تھا کہ یہ مقابلہ عالمی ریسلنگ فیڈریشن کے مقابلوں کی طرح ہوں گے۔ مگر ہم انہیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ ہم اپنی مذہبی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں‘ عالمی ریسلنگ فیڈریشن کے مقابلے بنگلہ دیش میں سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ درجنوں مظاہرین نے جمعہ اور ہفتے کے دن دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکوں پر احتجاج کیا اور اس مقابلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنا مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں حکومت کو خراب نتائج کی دھمکی بھی دی۔ جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا محی الدین خان کے بقول وہ اپنے ملک کو کسی بھی غیر اخلاقی کھیل سے محفوظ رکھنے کے لیے جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ان دھمکیوں کے باوجود کشتی کی فیڈریشن کو امید تھی کہ وہ یہ مقابلہ منعقد کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس مقصد کے لئے اس نے مقابلے کا مقام جیمنیزیم سے رہائشی علاقے میں خواتین کے لیے کھیلوں کے ایک مرکز میں منتقل کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||