کامیابی کا ایک اور سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زرینہ عزیز فرسٹ وومن بینک کی صدر ہیں۔ وہ گزشتہ پچیس سال سے بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے فرسٹ وومن بینک کی سربراہی اس وقت سنبھالی جب بینک بہت مشکل وقت سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے اپنی جدوجہد اور صلاحیتوں سے بینک کو اس مشکل وقت سے نکالا۔ نادیہ اسجد نے زرین سے اسی جدوجہد کے بارے میں بات کی جو پاکستان کی کامیاب خواتین کی کہانیوں کی ایک کڑی ہے۔ ’میں نے 1979 میں بینکنگ کی ملازمت اختیار کی تھی۔ میرے والدین نے شروع ہی سے مجھے بہت اعتماد دیا۔ نہ صرف تعلیم کے دور میں بلکہ ملازمت کے دوران بھی۔ ایک عام خیال ہے کہ بینکنگ بہت خشک شعبہ ہے۔ کم ہی خواتین اس شعبے میں آتی ہیں۔ لیکن مجھے شروع ہی سے بینکنگ کا شوق تھا بلکہ بینک میں آنے کے بعد تو یہ شوق جنون میں بدل گیا، حالانکہ بیس پچیس سال پہلے ایسے شعبوں بہت کم خواتین آتی تھیں۔ جب 1989 میں فرسٹ وومن بینک بنا تو مجھے لاہور میں اس کی پہلی برانچ قائم کرنے کی پیشکش ہوئی۔ وومن بینک خواتین کی معاشی ترقی کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔ یہ میرے لیے ایک موقع تھا کہ خواتین کے لیے کچھ کروں۔ ایک احساس تھا کہ عورت ہونا کتنا مشکل ہے چنانچہ میں نے یہ پیشکش قبول کرلی۔ 1996 میں بینک بہت کو بہت بڑا خسارہ ہوا اور مجھے اسی وقت بینک کی صدارت کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ بینک کے حالات بہت خراب تھے۔ خوف و ڈر تھا کہ بینک اب چل نہیں سکے گا، کوئی نظام نہیں تھا۔ لیکن میں نے یہ چیلنج قبول کیا۔ میرے دو اہم مقاصد تھے۔ ایک تو یہ کہ بینک کے خساروں سے خواتین بینکرز کی ساکھ خطرے میں تھی اسے بحال کرنا تھا دوسرے بینک کو منافع بخش بنانا تھا۔ میں نے اسے ایک امتحان سمجھ کر قبول کیا اور جدوجہد کی۔ میں نے بینک کے نظام میں تبدیلیاں کیں، لائحہ عمل بنایا اور اللہ کا بڑا فضل ہے کہ 19 اپریل 2003 کو بینک نے تمام خساروں کے ختم ہونے کا اعلان کردیا۔ بینک کا منافع 26 ملین سے بڑھ کر آج 270 ملین ہے ہوچکا ہے۔ میں نے ہمیشہ پرفیکشن پر یقین کیا ہے۔ جو کچھ آپ کریں بالکل صحیح طور پر کریں۔ بینکر تو ویسے بھی لوگوں کے اعتماد کے امانتدار ہوتے ہیں۔ یہ احساس بھی ہے کہ پاکستان نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہے ہمیں بھی اپنے ملک کو کچھ دینا ہے۔ بینک کا چارٹر ہے خواتین کی حوصلہ افزائی۔ بینک نے خواتین کی زندگیوں میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس سے پہلے کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو خواتین کو قرضے دے۔ خواتین کے ساتھ بینکنگ کرنا مختلف ہے۔ آپ نے خواتین میں اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستانی خواتین یوں بھی بہت محنتی اور دیانتدار ہیں۔ انہیں صرف حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ 64 ملین کی آبادی میں 44 ملین خواتین دیہی علاقوں سے ہیں۔ انہیں معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔ بینک ایسی ہی خواتین کو مختلف سطحوں پر قرضے دیتا ہے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں۔ شیخوپورہ میں مختاراں بی بی کو آٹھ ہزار روپے کا قرضہ دیا ہے۔ اس کے پاس کھڈی تو تھی لیکن کاروبار کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اب وہ ایک قالین بنا رہی ہے جو چھ ماہ میں مکمل ہوگا۔ جب آٹھ ہزار کا قالین وہ پچھتر ہزار میں بیچے گی تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئے گی اور ذرا سی مدد سے ہم کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ بینک کا ایک پروجیکٹ کم عمری میں مزدوری کے رجحان کو بھی ختم کرنا ہے۔ خواتین کے لیے ہمارے معاشرے میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت مواقع دیے جارہے ہیں۔ مسائل ہر جگہ ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں صنفی امتیاز نہ ہو لیکن ہمارا معاشرہ دوسروں سے یوں ممتاز ہے کہ یہاں خواتین کو احترام بھی بہت دیا جاتا ہے۔ یہاں کا خاندانی نظام مغرب کی نسبت بہت مضبوط ہے۔ مگر بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ پاکستان کی اچھی چیزوں کو بہت کم اجاگر کیا جاتا ہے۔ ہمارے منفی پہلوؤں اور کمزوریوں کو خصوصاً مغربی میڈیا بہت اچھالتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تصویر کا محض تاریک پہلو دکھانے کے بجائے پاکستان میں خواتین کی ترقی اور انہیں فراہم کیے جانے والے مواقعوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ معاشرے میں تبدیلیاں تیزی سے آرہی ہیں۔ لیکن خواتین کوخود بھی اپنی مدد کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے پیروں پر خود کھڑے ہونا ہے۔ اتنے سال پہلے 1979 میں میں مجھے زندگی میں بہت مواقع ملے جنہیں میں نے استعمال کیا۔ میں نے کبھی اپنے ’خاتون‘ ہونے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے کبھی یہ نہیں کیا کہ عورت ہونے کے ناطے بینک سے جلدی چھٹی کرلوں یا ایسے ہی دوسرے فائدے اٹھاؤں۔ میں نے محنت کی اور مجھے اس محنت کا صلہ ہر لمحے پر ملا ہے۔ یہ نہیں تھا کہ زندگی بہت آسان تھی، مسائل بھی آئے مگر میں نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا۔ مجھ میں خود اعتمادی اور ذہنی صلاحیت تھی۔ عورت ہونا مشکل بھی ہے۔ کچھ وقت لگتا ہے دوسروں کو بتانے میں کہ میرا دماغ بھی ہے۔ مسائل ہیں مگر ان کا مقابلہ بھی تو بہت ضروری ہے۔ میرے گھر والوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ جب میں اپنے کیریئر کے لیے جدوجہد کررہی تھی اس وقت میرا بیٹا بہت چھوٹا تھا لیکن وہ ہمیشہ ایک صابر بچہ رہا۔ اس نے کبھی میرے لیے مسائل پیدا نہیں کیے۔ ویسے بھی وقت کے ساتھ ساتھ آپ ہر ایک کو وقت دینا سیکھ جاتے ہیں۔ میں بینک کے جس بحران سے گزری اس نے مجھے اپنی زندگی کو منظم کرنا سکھایا ہے۔ یہ سکھایا ہے کہ کیا اہم ہے اور کیا غیر اہم۔ میں گھر اور بینک دونوں صحیح طور پر چلا لیتی ہوں۔ کسی کو کوئی شکایت نہیں۔ میرا نہیں خیال کہ میں نہ کبھی کسی کو کوئی کمی محسوس ہونے دی ہے۔ ایک چھوٹی سی بات کہ اپنی ذات کو میں نے نظر انداز کیا ہے۔ سب رشتے اچھی طرح نبھائے ہیں۔ ہاں بس اپنے اوپر بوجھ بہت لیے ہیں۔ سب کو وقت دیا، نہیں دیا تو اپنے آپ کو‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||