سمگلنگ روکنے پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے سمگلنگ روکنے کے لئے دوطرفہ اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں ’فوکل پوائنٹ، قائم کرنےاور خفیہ معلومات کے تبادلے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ اتفاق پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے بھارتی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل مدھر کمار سنگھ کی سربراہی میں آنے والے وفد سے مذاکرات میں کے نتیجے میں ہوا۔ پاکستانی وفد کے سربراہ خالد لطیف نے صحافیوں کو بتایا کہ ساڑھے سات سال بعد دونوں ممالک میں منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے بارے میں دوبارہ بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے طے کیا ہے کہ اگر کسی ملک کا سمگلر دوسرے ملک میں چھپ جائے گا تو اس صورت میں دونوں ممالک کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ خالد لطیف کے بقول انیس سو چورانوے میں ویانا میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں طے ہوا تھا کہ ہر سال دونوں ممالک کے نمائندوں کی دو بار ملاقاتیں ہوں گی، جس کے بعد چورانوے سے ستانوے تک پانچ اجلاس ہوئے لیکن اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اب دونوں ممالک نے مذاکرات میں طے کیا ہے کہ ہر تین ماہ بعد رینجرز ، بارڈر سکیورٹی فورس، کسٹمز اور نارکوٹکس ایجنسیوں کے نمائندوں کی ملاقاتیں ہوں گی۔ جبکہ ریل اور بس کے ذریعہ سفر کرنے والوں کی نگرانی بھی سخت کی جائے گی۔ ملاقات ختم ہونے کے بعد بھارتی وفد کے سربراہ ایم کے سنگھ کا کہنا تھا کہ فوکل پوائنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے اور آئندہ دونوں ممالک میں آسانی سے رابطہ کیا جا سکے گا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ سال میں ایک یا دو بار دونوں ممالک میں سیکریٹری یا ڈائریکٹر جنرل کی سطح پر بات چیت ہوگی اور صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ دریں اثناء بھارتی وفد نے پاکستان کے وزیر داخلہ سید فیصل صالح حیات سے ملاقات بھی کی ۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے پاکستان سے ہیروئن کی سمگلنگ میں قابل ذکر حد تک کمی پر پاکستان حکومت کی جانب سے کیےگئےاقدامات کو سراہا جبکہ پاکستان نے بھارت سے ہیروئن سازی میں استعمال ہونے والے کیمیائی مواد کی سمگلنگ میں کمی پر ان کے اقدامات کی تعریف کی۔ واضع رہے کہ پاک - بھارت امن مذاکرات کے سلسلے میں سمگلنگ کے متعلق ہونے والے دو روزہ مذاکرات جو منگل کو شروع ہوئے تھے، بدھ کو ختم ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||