BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 May, 2005, 06:08 GMT 11:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ چیٹنگ، اغواءاور قتل

سندھ ہائی کورٹ
عدالت نے تینوں کو دو دو مرتبہ عمرقید کی سزاکے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا ہے
کراچی کی ایک عدالت نے انٹر نیٹ چیٹنگ کے ذریعے نوجوان کو بلاکر اغوا کرکے اسے قتل کرنے کے جرم میں ایک لڑکی اور اس کے دو ساتھیوں کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزاسنائی ہے۔

یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد نور خان نے سنایا۔

ملزمان آصف اور شیراز کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ شبانہ مفرور ہے۔

ان تینوں پر الزام ہے کہ شبانہ نے انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذریعہ دوہزار چار میں راغب عباس نامی ایک نوجوان سے دوستی کی ۔ بعد میں اس کو ملاقات کے لیے بلایا۔ جہاں شبانہ نے دوستوں کی مدد سے راغب کو اغوا کرلیا۔

ان لوگوں نے مغوی کے گھر والوں سے پندرہ لاکھ روپے بطور تاوان طلب کئے ۔

تاوان کی رقم نہ ملنے پر راغب عباس کو زہریلا انجیکشن لگاکر گلستان جوہر میں پھینک دیا۔

راغب کچھ دن ہسپتال میں رہنے کے بعد فو ت ہوگیا۔

پولیس نے آصف اور شیراز کو گرفتار کرلیا جبکہ شبانہ گرفتار نہیں ہوسکی۔

عدالت نے تینوں کو دو دو مرتبہ عمرقید کی سزا کے علاوہ ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک ایک لاکھ کی املاک ضبط کرنے کا بھی حکم سنایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد