انٹرنیٹ چیٹنگ، اغواءاور قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے انٹر نیٹ چیٹنگ کے ذریعے نوجوان کو بلاکر اغوا کرکے اسے قتل کرنے کے جرم میں ایک لڑکی اور اس کے دو ساتھیوں کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزاسنائی ہے۔ یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد نور خان نے سنایا۔ ملزمان آصف اور شیراز کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ شبانہ مفرور ہے۔ ان تینوں پر الزام ہے کہ شبانہ نے انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذریعہ دوہزار چار میں راغب عباس نامی ایک نوجوان سے دوستی کی ۔ بعد میں اس کو ملاقات کے لیے بلایا۔ جہاں شبانہ نے دوستوں کی مدد سے راغب کو اغوا کرلیا۔ ان لوگوں نے مغوی کے گھر والوں سے پندرہ لاکھ روپے بطور تاوان طلب کئے ۔ تاوان کی رقم نہ ملنے پر راغب عباس کو زہریلا انجیکشن لگاکر گلستان جوہر میں پھینک دیا۔ راغب کچھ دن ہسپتال میں رہنے کے بعد فو ت ہوگیا۔ پولیس نے آصف اور شیراز کو گرفتار کرلیا جبکہ شبانہ گرفتار نہیں ہوسکی۔ عدالت نے تینوں کو دو دو مرتبہ عمرقید کی سزا کے علاوہ ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک ایک لاکھ کی املاک ضبط کرنے کا بھی حکم سنایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||