| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بل کلنٹن کی دو ای میلز
امریکہ میں سابق صدر بل کلنٹن کے نام پر بننے والی کلنٹن پریزیڈینشل فاؤنڈیشن نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں اپنے سرکاری قیام کے دوران صرف دو مرتبہ کسی کو ای میل بھیجی۔ تاہم بل کلنٹن کی انتظامیہ نے میموز اور نوٹس کی شکل میں تقریباً چار کروڑ پیغامات ادھر ادھر روانہ کیے جن میں سے اکثر کابینہ کے اراکین یا صدر کے معتمد حضرات کو ارسال کیے گئے۔ بل کلنٹن نے ای میل کے جو دو پیغامات بھیجے ان میں سے ایک تو ٹیسٹ پیغام تھا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا امریکہ کا صدر کسی کو ای میل بھیج سکتا بھی ہے یا نہیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق بل کلنٹن کی طرف سے بھیجا جانے والا دوسرا پیغام وہ ای میل تھی جو خلاباز جون گلین کو بھیجی گئی جو بعد میں سیاست کے میدان میں آگئے تھے۔ گلین کو زمین کے مدار میں جانے والا پہلا امریکی ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق وہ واحد شخص ہیں جنہیں بل کلنٹن نے بطور صدر کوئی ای میل بھیجی۔ اور یہ ای میل بھی صدر کلنٹن نے خود نہیں بھیجی بلکہ انہیں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کی مدد حاصل تھی۔ اس ای میل میں صدر کلنٹن نے چالیس سالے کے وقفے کے بعد دوبارہ خلا میں جانے پر خلاباز کی تعریف کی تھی۔ فاؤنڈیشن کے سربراہ سکپ رتھرفورڈ کہتے ہیں کہ سابق صدر نے ای میل کرنے کے لئے وقت ہی نہیں نکالا حانکہ ان کے آٹھ سالہ صدراتی دور میں انٹرنیٹ کا استعمال اپنی تمام حدوں کو چھو گیا۔ سکپ کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی بل کلنٹن ای میل استعمال کرنے کی بجائے ذاتی تحریر یا ٹیلی فون کے ذریعے کسی سے رابطہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||