BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2003, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھمکی آمیز ای میل کا سراغ

ہاٹ میل

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو دھمکی آمیز ای میل پیغام بھیجنے کے الزام میں لاہور پولیس نے کوئی مقدمہ درج کیے بغیر ایک مقامی انٹرنیٹ کیفے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس نے مشتبہ شخص کے خاکے شہر بھر کے تمام انٹرنیٹ کیفیز میں لگا دیے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کیفے کے مالکان کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ ہر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے شخص کے نام اور پتے کا ریکارڈ رکھیں۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ایک دھمکی آمیز ای میل پیغام ملا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو انھیں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے اٹھایا جس نے وفاقی حکومت سے مدد کے لیے کہا۔ وفاقی حکومت نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں سائبر کرائم کے ماہرین سے اس ای میل پیغام بھیجنے والے کا پتا چلانے کے لیے کہا۔

لاہور پولیس کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے پتا چلایا ہے کہ یہ ای میل پیغام مبینہ طور پر لاہور کےعلامہ اقبال ٹاؤن کے عمر بلاک میں واقع ایک انٹرنیٹ کیفے سے ’لِونگ وے آف اسلام ایٹ ہاٹ میل ڈاٹ کام‘ کے پتے سے بھیجا گیا ہے۔

منگل کو پولیس نے اٹرنیٹ کیفے کے مالک اسد اور ان کے ملازم کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی اور بعد میں انھیں مقدمہ درج کیے بغیر چھوڑ دیا۔

چٹ چیٹ نام کے اس انٹرنیٹ کیفے کے مالک اسد نے پولیس کو بتایا کہ وہ صبح کو ملازمت کرتا ہے اور شام کو تھوڑی دیر کے لیے اپنے انٹرنیٹ کیفے میں جاتا ہے اور اس کا ملازم علی زیادہ وقت کیفے میں ہوتا ہے۔

پولیس کو تفتیش میں پتا چلا کہ یہ ای میل پیغام کیفے کے سات نمبر کیبن سے بھیجا گیا جہاں بیس اکیس سال کی عمر کا ایک لمبا اور سفید رنگ کا شخص اس روز یہاں پہلی اور آخری دفعہ آیا تھا۔ یہ مشتبہ لڑکا پندرہ بیس منٹ کے بعد پیسے دےکر چلا گیا۔

لاہور پولیس کے سربراہ ڈی پی او خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی دہشت گرد تنظیم کا کام نہیں ہے بلکہ کسی نوجوان نے سنسنی پھیلانے کے لیے ایسا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس انٹیلی جنس ایجنیسوں کے ساتھ مل کر اس پر کام کررہی ہے اور اس نے سائیبر جرائم کےماہرین سے بھی رابطہ کیا ہے۔

تاہم لاہور پولیس کے ڈی پی او کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے لیے خطرہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم بھی اپنے تحفظ کے بارےمیں فکرمند تھی لیکن کوئی غلط بات نہیں ہوئی کیونکہ پولیس نے ان کی حفاظت کے لیے جامع منصوبہ بندی کی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد