BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اور اوپن سورس سافٹ ویئر

کمپیوٹر استعمال کرنے والے
مائیکرو سافٹ وغیرہ جیسی سافٹ ویئر بنانے والی بڑی کمرشل کمپنیاں اپنے کمپیوٹر پروگواموں کو مہنگے دام فروخت کرتی ہیں
عام طور پر پینگوین کا نام سنتے ہی سرد ہواؤں اور برف کا تصور ذہن میں آتا ہے، مگر کمپیوٹر کی دنیا میں یہ پرندہ ’ٹکس دی پینگوین‘ کی صورت میں اب اوپن سورس سافٹ ویر خصوصا لنيکس کی علامت ہے۔

اوپن سورس سافٹ ویر کمپیوٹر پروگرامنگ کا وہ زمّرہ ہے جس میں سافٹ ویرنہ صرف مفت تقسیم کیا جاتا ہے بلکہ سافٹ ویر کے ساتھ اس کا کوڈ بھی دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مائیکرو سافٹ وغیرہ جیسی سافٹ ویر بنانے والی بڑی کمرشل کمپنیاں اپنے کمپیٹر پروگواموں کو مہنگے دام فروخت کرتی ہیں اور ان کے کوڈ کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

اوپن سورس سافٹ ویر میں کمپیوٹر پروگرام کے کوڈ کو ’اوپن‘ یا عیاں رکھنے کی وجہ سے پروگرام استعمال کرنے والے (سافٹ ویر کی اصلی شکل و صورت بدلے بغیر) اس میں ضرورت کے مطابق مناسب تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اوپن سورس کوڈ میں لکھے گئے ایک ورڈ پروسسنگ سافٹ ویر کے کوڈ میں تبدیلیاں کر کے مقامی زبان کے تقاضوں کے مطابق بدلا جا سکتا ہے۔ اوپن سورس سافٹ ویر لائسنس کے تحت پروگرام کے ماخذ کو یہ تبدیل شدہ کوڈ ’پیچ‘ (patch) کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح دنیا بھر سے بھیجے گئے کوڈ کی مدد سے اوپن سورس سافٹ ویر کو مزید بہتر بنایا جاتا ہے اور یوں سافٹ ویر کے نئے ورژن منظر عام پر آتےہیں۔

چونکہ اوپن سورس سافٹ ویر کی مفت ترسیل کی جاتی ہے اور اس کے کوڈ کو مزید تعمیر اور بہتربنانے میں عوام شامل ہوتی ہے اس لیے اس پر کاپی رائٹ اورانٹیلکچول پراپرٹی رائٹس عائد نہیں ہوتے۔ یوں پائریسی کا مسئلہ بھی درپیش نہیں ہوتا۔

حال ہی میں پاکستان کمپیوٹر سوسائٹی کے زیر انتظام کراچی میں پہلی اوپن سورس سلوشنز نمائش کا انعقاد کیاگیا۔ اس ایک روزہ اوپن سورس سلوشنز 2004 نمائش میں آٹھ مقامی کمپنیوں نےشرکت کی اور اوپن سورس ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی مصنوعات پیش کیں۔

اگرچہ نمائش میں زیادہ تر تجارتی اداروں میں استعمال ہونے والے سافٹ ویر رکھے گئے تھے مگر اس کےساتھ ساتھ لینکس آپریٹنگ سسٹم کے مختلف انداز اور قسموں کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔

پاکستان میں اوپن سورس سافٹ ویر کی طرف کس قسم کا رجحان پایا جاتا ہے؟ نمائش میں شامل پاکستان میں ریڈ ہیٹ لینکس کے تقسیم کارکمپنی آرپاٹیک کے سی ای او جمال خان کے مطابق ’پاکستان میں لینکس اور اوپن سورس سافٹ ویر کی طرف رجحان رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ پائریٹڈ سافٹ ویر کے خلاف حکومت کے سخت اقدامات اور چھاپے ہیں۔ لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں بھی لینکس کی طرف رجحان اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ سافٹ ویر وائرس سے پاک ہے۔ اس لیے پاکستان بھی اسی طرف رخ کر رہا ہے۔‘

پاکستان میں لینکس کےاستعمال اور اس کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہ کرنے والے ایک گروپ، لینکس پاکستان کے کوارڈ ینیٹر طارق فاروقی کے مطابق پاکستان میں اسی فیصد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں اب لینکس استعمال کر رہی ہیں۔ مگر لینکس صرف بڑی کمپنیوں اور تجارتی اداروں کی ضرورتوں کو نہیں پورا کرتا۔ سب سے پہلے یہ پائریٹڈ سافٹ وير کا بہترین نعم البدل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں کمپیوٹر کے کافی صارفین ایسے بھی ہیں جو صرف پرانےمرمت شدہ کمپوٹر ہی خرید سکتے ہیں۔ ایسے کمپوٹروں پر دوسرے سافٹ ویر کی نسبت لینکس بخوبی کام کر سکتا ہے۔ مگر لینکس کی مفت ترسیل پاکستان میں اس کا روشن پہلو بننے کے بجائے اس کی بدقسمتی بن گئی ہے کیونکہ یہاں مفت ملنے والی چیز کی کوئی قدر نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد