افغان سرحد پر 4000 مزید فوجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحد کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے مزید چار ہزار فوجی علاقے میں بھیجے گا۔ ادھر شمالی وزیرستان میں مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ تازہ جھڑپ میں ایک فوجی جوان ہلاک ہوا ہے جبکہ چھ عسکریت پسند گرفتار کیے گئے ہیں۔ افغان سرحد پر مزید فوجی روانہ کرنے کا اعلان کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے بدھ کی رات گئے ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مزید چار ہزار فوجی افغانستان کے ساتھ سرحد پر تعینات کر رہے ہیں تاکہ بقول ان کے سرحد پار چھوٹے موٹے حملوں کا بھی اگر پاکستانی علاقے سے ہو رہے ہیں تو سدباب کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فوجی وہاں پہلے سے موجودہ ستر ہزار میں سے ہی ’ری ایڈجسٹ’ کیے جائیں گے اور اس کے لیے انہوں نے حکم جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اعلان سے قبل افغان حکام، افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر اور حالیہ دنوں میں بھارت میں افغان وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوج پوری تندہی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ سرحد پر نگرانی کا کام سرانجام دے رہی ہے۔ ’ہم افغانستان کی سلامتی کو پاکستان کی سلامتی تصور کرتے ہیں۔‘ کور کمانڈر نے افغانستان کو تجویز پیش کی کہ اگر ان اقدامات سے افغانستان کی تسلی نہیں ہوتی تو وہ سرحد پر کانٹے دار تار لگالے۔ انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کے علاوہ بٹے ہوئے سرحدی قبائلی کا غلط استعمال بند کر دے۔ انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ اس صورتحال کا اپنے مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جلال آباد اور قندہار میں بھارتی کونسل خانے کے کردار پر تنقید کی۔ ادھر شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں آج مشتبہ عسکریت پسندوں اور فوجیوں کے درمیان ایک جھڑپ میں ایک فوجی ہلاک جبکہ چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ کور کمانڈر کے مطابق گرفتار افراد میں سے ایک غیرملکی عرب یا ازبک ہوسکتا ہے جبکہ باقی پانچ کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تفصیل کے مطابق شوال کے میرادین علاقے میں گاڑیوں کے تلاشی کے دوران فوجیوں نے ایک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا لیکن گاڑی سے ان پر گولی چلا دی گئی۔ تاہم اس دوران چار افراد گرفتار کر لیے گئے جبکہ ان کے کئی ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ ان فرار افراد نے بعد میں گشت پر فوجیوں پر گولی چلا دی جس سے ایک فوجی موقعے پر ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگے۔ ان میں سے دو کو گولیوں سے زخم آئے جبکہ باقی دو گاڑی الٹنے سے زخمی ہوئے۔ البتہ فوجیوں نے مزید دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||