افغانستان: طالبان کمانڈروں کاگھیراؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں گزشتہ تین روز سے امریکی سربراہی میں جاری آپریشن میں سو سے زائد مشتبہ افراد کی ہلاکت کے بعد طالبان کے دو سینئر کمانڈروں کی محصوری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے صوبے زابل میں امریکی اور افغان فوج کےمشترکہ آپریشن میں سو سے طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ البتہ طالبان کے ترجمان لطیف اللہ حکیمی نے امریکی اور افغان حکومت کے دعوؤں کی تردید کی ہے ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی جنگجو ہلاک نہیں ہوا ہے۔ افغانستان میں پچھلے دو سالوں میں یہ سب سے بڑا فوجی آپریشن ہے جس میں افغانستان کے سینکڑوں فوجیوں نے حصہ لیا۔ افغان فوجیوں کو امریکی آئیر فورس اور زمینی فوج کی مدد حاصل تھی۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ کئی اہم طالبان لیڈروں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ بدھ کو ایک امریکی جاسوسی طیارہ افغانستان میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ابھی تک واضح نہیں ہے کہ جاسوسی طیارہ طالبان کے خلاف آپریشن میں مدد کر رہا تھا یا نہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان لطف اللہ مشل نے بتایا کہ حکومت کے پاس ہلاک ہونے والے 103 طالبان کی لاشیں موجود ہیں۔ افغانستان پولیس کے کمانڈر جنرل سلیم خان نے بتایا ہے کہ اس آپریشن میں آٹھ افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا کہ پانچ امریکی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ نے بتایا ہے کہ باغیوں کی ہلاکت کے بارے امریکی دعوؤں پر شک کیا جاتا ہے۔ اینڈریو نارتھ نے کہا کہ اب افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں اور کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرتا جب افغانستان میں تشدد کی کارروائی نہ ہوئی ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||