’اسامہ اور ملا عمر زندہ ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے ایک اعلی رہنما نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر زندہ ہیں اور خیر و آفیت سے ہیں۔ طالبان کے رہنما ملا اختر عثمانی نے پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملا عمر سے رابطے میں ہیں اور ان سے احکامات وصول کرتے رہتے ہیں۔ تاہم ملا اختر عثمانی کی طرف سے کیے گئے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ افغان امور کے ماہر اور بی بی سی کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ سن دوہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے سے پہلے ملا اختر عثمانی طالبان کے ایک سرکردہ کمانڈر تھے۔ ملا اختر عثمانی کے دعوے سے ایک دن قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے آسٹریلیا میں اپنے دورے کے دوران بیان دیا تھا کہ اسامہ بن لادن زندہ ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں ان کی معلومات پاکستان میں القاعدہ کے گرفتار ہونے والے ارکان سے تفتیش کے دوران حاصل کیے گئے بیانات پر مبنی ہے۔ ملا اختر عثمانی نے کہا کہ طالبان پورے افغانستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی صوبے میں کم اور کسی میں زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن دن بدن ان کی حمایت اور تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملا اختر عثمانی جنہوں نے انٹرویو کے دوران اپنا چہرہ نقاب میں چھپایا ہوا تھا کہا کہ اور وہ اپنے بارے میں کوئی بات بتانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی کمان ابھی تک ملا عمر کے ہاتھ میں ہے۔ ملا عمر ابھی تک طالبان کے کمانڈر ہیں اور احکامات جاری کر رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں روپوش ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||