’جہادی کیمپ ختم نہیں ہوئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں دہشتگردی سے نمٹنے والے اداروں نے اس امر پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی حکومت جہادیوں کے تربیتی کیمپ ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امریکی روزنامے لاس اینجلس ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حال ہی میں ریاست کیلیفورنیا سے گرفتار ہونے والے چند پاکستانیوں سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر امریکی خفیہ ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردی کی تربیت دینے والے کیمپ بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں۔ خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد سے ان کیمپوں کی کارگزاری میں بہت تبدیلی آئی ہے، اور افغانستان کے القاعدہ کیمپوں کے بر خلاف یہ چھوٹے چھوٹے کیمپ انڈر گراؤنڈ ہیں، اور القاعدہ کے سینیئر ارکان کی بجائے تین مقامی مذہبی تنظیمیں انہیں چلا رہی ہیں۔ ان تنظیموں کے نام لیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ حرکت المجاہدین، جیش محمد اور لشکر طیبہ، کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود مختلف ناموں سے تربیتی کیمپ چلا رہی ہیں۔ اخبار نے انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سابقہ حرکت المجاہدین اب جمیعت الانصار کے نام سے کام کر رہی ہے اور اس کے ایک رہنما فضل الرحمان خلیل ہیں جو القاعدہ سے رابطے کے علاوہ پاکستانی خفیہ اداروں سے بھی قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ کیلیفورنیا سے گرفتار ہونے والے پاکستانی افراد میں سے ایک کا تعلق بھی خلیل سے ہی جوڑا گیا ہے۔ ان گرفتار شدگان میں ایک باپ اور بیٹا بھی شامل ہیں، اور بیٹے پر الزام ہے کہ اس نے پاکستان کے ایک کیمپ سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||