قندھار کےایک ضلع پر طالبان کا قبضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے حامی جنگجوؤں نے افغانستان کے جنوب میں ایک ضلع پر قبضہ کر کے پچیس افغان فوجیوں کو یرغمال بنالیا ہے۔ ان جنگجوؤں نے جمعہ کی رات کو قندھار صوبے میں میاناشین ضلع پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کو بھی یرغمال بنالیا گیا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق میانا شین قندھار کا دور افتادہ ضلع ہے جو زابل اور ارزگان کے صوبوں کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ علاقہ طالبان کی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور یہاں طالبان اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔ صوبائی پولیس کے نائب سربراہ جنرل سلیم خان نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو ایک قافلے پر حلمے کے دوارن یرغمال بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یرغمال ہونے والے پولیس اہلکاروں سے سیٹلائیٹ فون کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ میانا شین کے ضلع پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||