’اسامہ افغانستان میں نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ ان کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اسامہ بن لادن اور طالبان کے رہنما ملا عمر افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے یہ نہیں کہا کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کہاں ہو سکتے ہیں لیکن نامہ نگاروں کو خیال ہے کہ زلمے خلیل زاد کا مطلب یہی تھا کہ وہ پاکستان میں موجود ہیں۔ بدھ کو طالبان کے ایک اعلی رہنما نے پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن اور طالبان کے رہنما ملا محمد عمر زندہ اور صحت مند ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے اور وہ بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ زلمے خلیل زاد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ملا عمر افغانستان میں نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن بھی افغانستان میں نہیں۔‘ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ایک آدمی کو ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لیے بروقت اطلاعات ملنا بہت ضروری ہے۔‘ امریکی سفیر نے کہا کہ القاعدہ کے خلاف کافی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بن لادن کو اس تنظیم پر کتنا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے بہت سے ارکان گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان کے تنظیمی ڈھانچے کو توڑ دیا گیا ہے اور ان کے مالی امداد فراہم کرنے والے ذرائع کو تتر بتر کر دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک لمبی جدوجہد ہے اور یہ علامتی طور پر بہت ضروری ہے کہ اسامہ بن لادن کو گرفتار کیا جائے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جلد یا بدیر اسامہ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کافی عرصے سے یہ اصرار ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں کہیں روپوش ہیں۔ زلمے خلیل زاد ایک متنازعہ شخصیت ہیں گزشتہ سال پاکستان نے ان کے ایک بیان کی شدید مذمت کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان پوری طرح مدد نہیں کررہا۔ نامہ نگاروں کے مطابق اس مرتبہ اسامہ کے بارے میں بیان دیتے ہوئے زلمے خلیل زاد بہت محتاط تھے اور انہوں نے کافی گول مول زبان استعمال کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||