ابو فراج مردان سے گرفتار ہوئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر مردان میں پولیس نے القاعدہ کے ایک مشتبہ سینئیر رکن ابو فراج کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے تاہم اعلٰی پاکستانی حکام نے اس گرفتاری کی تصدیق کے علاوہ مزید معلومات دینے سے انکار کردیا ہے۔ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس مردان امان اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ گرفتاری گزشتہ سوموار مردان کے شاہ ڈنڈ بابا علاقے میں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے بارے میں انہیں پہلے سے علم نہیں تھا لیکن گشت کے دوران گولی چلنے کی آواز نے انہیں اس جانب متوجہ کیا۔ جب وہ قریب آئے تو معلوم ہوا کہ موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے دو مشتبہ افراد میں سے ایک کو آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے پکڑ رکھا ہے جبکہ دوسرا ایک قریب ہی واقع خالد خان کے مکان کے حجرے میں چھپ گیا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق خفیہ ایجنسی کے اہلکار برقعہ میں انہیں پکڑنے کے لئے پہلے ہی سے راستے میں کھڑے تھے۔
’اسے نکالنے کی ہم نے بہت کوشش کی لیکن وہ باہر نہ آیا لہذا ہم نے کھڑکی کے دو شیشے توڑ کر اندر آنسو گیس پھینکی جس کے بعد وہ باہر آنے پر مجبور ہوا۔‘ ڈی ایس پی امان اللہ نے مزید بتایا کہ یہ ہو بہ ہو وہی عربی شخص تھا جس کی بعد میں میں نے اخبارات میں تصاویر دیکھی ۔ ’اس کی تلاشی میں نے لی تو اس کے قبضے سے صرف ایک موبائل فون ہی برآمد ہوا۔ بعد میں کمرے کی تلاشی لینے پر پھٹے ہوئے چند کاغذ ملے جن پر شاید فون نمبر درج تھے لیکن پڑھے نہیں جا سکتے تھے۔‘ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے مقامی پولیس کو اس شخص سے بات کرنے نہیں دی اور فوراً ہی گاڑی میں بیٹھا کر اسے کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔ جس مکان میں ابو فراج نے پناہ لے رکھی تھی اس کے مالک کے بیٹے ندیم نے بتایا کہ وہ پہلے تو اتنی تعداد میں پولیس کی نفری دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا۔ ندیم نے مزید بتایا کہ گرفتار ہونے سے قبل اس شخص نے عربی زبان میں چند نعرے بلند کئے جو اس کو سمجھ نہیں آئے۔ اس گرفتاری کے بارے میں حکومت پاکستان نے کافی محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے ۔ حکام نے صرف گرفتاری کی تصدیق کی تاہم یہ کہاں اور کن حالات میں ہوئی اس بارے میں حکام خاموش ہی رہے ۔
کئی مبصرین کے خیال میں ایک اور القاعدہ کے سرغنہ کے پاکستان کے شہری علاقے سے پکڑے جانے سے پیدا ہونے والی خفت سے بچنے کے لئے حکام مقام گرفتاری کی تصدیق نہیں کررہے۔ اس سے قبل القاعدہ کے مبینہ رکن خالد شیخ محمد کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اسی طرح کی کئی دیگر گرفتاریاں فیصل آباد اور کراچی سے بھی ہوئیں۔ اسلام آباد سے موصول اطلاعات کے مطابق ابو فراج سے تفتیش جاری ہے۔ حکام امید کر رہے ہیں کہ ان کی گرفتاری سے القاعدہ کے مزید اہم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد ملے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||