القاعدہ کےایک اور سرکردہ رہنما گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ تنظیم کے انتہائی مطلوب افراد کی امریکی فہرست میں شامل ابو فراج اللبی عرف ڈاکٹر توفیق کو پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تاہم دو اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اللبی کو وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ایک جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ایک اور اطلاع کے مطابق انہیں صوبہ سرحد کے شہر مردان سے گرفتار کیا گیا۔ اللبی القاعدہ کے سرکردہ رہنماؤں میں اسامہ بن لادن اور مصری نژاد ایمن الزہواری کے بعد تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ سکیورٹی اہکاروں کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد اللبی نے ان کی جگہ لے لی تھی۔ ابو فراج کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے دو کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ ابو فراج مبینہ طور پر صدر جنرل پرویز مشرف پر خود کش حملے میں شامل افراد کے سرغنہ بتائے جاتے ہیں۔ شیخ رشید احمد سے جب پوچھا کہ ابو فراج البی کو کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات وہ معلوم کر رہے ہیں اور بعد میں بتائیں گے۔
پاکستان حکومت نے گزشتہ سال اٹھارہ اگست کو مختلف اخبارات میں ’انتہائی مطلوب افراد‘ کے عنوان سے اشتہار شائع کرایا تھا۔ جس میں پہلے نمبر پر ابو فراج اللبی کا نام ان کی تصویر کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ابو فراج اللبی اپنے کچھ ساتھیوں سمیت قبائلی علاقوں سے گرفتار ہوئے ہیں لیکن اس کی سرکاری طور پر تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ حکومت نے گزشتہ سال جو اشتہار شائع کرایا تھا اس میں ابو فراج اللبی کے ساتھ پانچ اور ملزمان کی تصاویر بھی شائع کی تھیں۔ جس میں سے ایک امجد حسین عرف امجد فاروقی پولیس مقابلے میں مارا جاچکے ہیں۔ جبکہ دیگر مطلوب ملزمان میں مطیع الرحمان عرف صمد، عمر اقدس عرف سہیل، قاری احسان عرف شاہد اور منصور عرف چھوٹا ابراہیم شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||