مشتبہ القاعدہ قیدی کہاں ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی تنظیموں بالخصوص ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے القاعدہ کے ان مشتبہ اراکین کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کی ہے جو امریکہ کی حراست میں ہیں اور ان کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ وہ کہاں قید ہیں- پچھلے سال جب پاکستان میں خالد شیخ محمد کو گرفتار کیا گیا تھا تو یہ کہا گیا تھا کہ یہ القاعدہ کی کاروائیوں کے سربراہ ہیں اور ان کی گرفتاری ایک زبردست کامیابی ہے- لیکن ان کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں قید ہیں- پاکستانی حکام نے بتایا تھا کہ ان سے پوچھ گچھ کر کے انہیں امریکیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے- امریکی حکومت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے جان مینل کو بتایا ہے کہ خالد شیخ محمد جو کے ایس ایم کہلاتے ہیں ایک ایسے مقام پر ہیں جس کے بارے میں انکشاف نہیں کیا جا سکتا- ان کے ساتھ امریکہ کی حراست میں بائیس سے زیادہ القاعدہ کے ایسے مشتبہ قیدی ہیں جن کے بارے میں کسی کو علم نہیں- چار مہینے قبل ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نےان قیدیوں کے بارے میں اس وقت کھلم کھلا تشویش ظاہر کی تھی جب ریڈ کراس کے صدر نے امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول اور قومی سلامتی کی مشیر کنڈولیزا رائس سے ان قیدیوں کے مسلہ پر ملاقات کی تھی- لیکن ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک ان قیدیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے اور ان کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے- ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے اہلکاروں نے گوانتانامو بے اور بگرام کے حراستی کیمپوں کا دورہ کیا ہے لیکن ان قیدیوں میں سے کوئی وہاں نہیں ملا- امریکہ کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے مشتبہ قیدی تین مقامات پر نظر بند ہیں، یعنی گوانتانامو بے، افغانستان اور عراق- ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ دوسرے محکموں نے کہیں اور قیدی رکھے ہوں- امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کا کام لوگوں کو حراست میں رکھنا نہیں ہے- جب اس سلسلہ میں قومی سلامتی کونسل سے دریافت کیا گیا تو جواب یہ ملا کہ ’ہم ان معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے- یہ انٹیلیجنس کا معاملہ ہے اس سلسلہ میں انٹیلیجنس ایجینسیوں سے بات کی جائے-‘ محکمہ انصاف نےاس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے اور ایف بی آئی اور سی آئی اے نے بھی خاموشی کو ترجیح دی ہے۔ تاہم سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار نے اشارہ دیا ہے کہ کچھ قیدی ڈیاگو گارسیا لے جائے گے تھے جو بحر ہند میں برطانوی جزیرہ ہے اور جسے ایک سمجھوتے کے تحت امریکی فوجیں استعمال کرتی ہیں- امریکی بحریہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کوئی قیدی ڈیاگو گارسیا کی بحری اڈے میں نظر بند نہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||