قبائلی علاقہ میں مدرسے پر چھاپہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی دستوں نے کارروائی کرتے ہوئے ایک دینی مدرسے کی تلاشی لی البتہ اس دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ادھر جنوب میں احمدزئی وزیر قبیلے کے سابق مطلوب شخص محمد شریف نے منگل کے روز پشاور میں گورنر سرحد سے ملاقات کی ہے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق درجنوں گاڑیوں میں سوار سکیورٹی دستوں کے اہلکاروں نے کل رات گئے درپہ خیل ڈانڈے میں داخل ہوکر مورچے سنبھال لیے تھے۔ بعد میں قبائلی عمائدین کی رضامندی سے ٹوچی سکاوٹس اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے سابق طالبان کمانڈر اور وزیر دفاع مولوی جلال الدین حقانی کے قائم کردہ دینی مدرسے منابل العلوم کی تلاشی لی۔ اطلاعات کے مطابق دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تلاشی میں فوجیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ فوجی حکام نے تلاشی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی مقامی انتظامیہ نے کی البتہ اس میں سکیورٹی دستوں کی مدد حاصل رہی۔ اس مدرسے کی تلاشی اپریل دو ہزار دو میں بھی لی گئی تھی اور اس وقت بھی حکام کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا۔ یہ چھوٹا سا مدرسہ اب بھی فعال ہے اور اس میں بڑی تعداد میں مقامی طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ ادھر پشاور میں منگل کو حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب پانچویں قبائلی رہمنا محمد شریف نے گورنر سرحد سے ملاقات کی۔ محمد شریف کو دیگر چار انتہائی مطلوب افراد سمیت گزشتہ ماہ حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے کے تحت معافی دے دی گئی تھی۔ اس موقعے پر محمد شریف نے گورنر کو علاقے میں غیرملکی عناصر کو پناہ نہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||