قندھاربم، 20 سے زیادہ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے قندھار کی ایک مسجد میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔یہ بات انہوں نے بی بی سی کے کابل دفتر فون کر کے کہی۔ خود کش حملہ بدھ کی صبح قندھار کی مولوی عبد الرب مسجد میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً نو بجے ہوا۔ دھماکے کے وقت اتوار کو قتل ہونے والے ایک طالبان مخالف اور کرزئی حکومت کے حامی مولوی فیاض کے لیے فاتحہ خوانی ہو رہی تھی۔ ایک مقامی اہلکار نے رائٹرز حبر رساں ایجنسی کو بتایاہے کہ اس دھماکے میں کئی افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ لوگ اس مسجد میں اتوار کو قتل ہونے والے اس طابان مخالف مولوی فیاض کے سوگ کے لیے موجود تھے۔ عینی شاہدوں کے مطابق حملہ آور ملٹری یونیفارم میں تھا۔ اسی مسجد میں مولوی فیاض نے لوگوں کو حامد کرزئی کی حمایت کرنے کی تلقین کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاعمر امیرالمومنین نہیں ہیں اور انکی اطاعت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ ہلاک کیے جانے والے مولوی نے طالبان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||