حامد کرزئی بھی ذمہ دار ہیں: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار نے ملکی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت پر قابو پانے میں ناکامی کی ذمہ داری کسی حد تک صدر حامد کرزئی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے یہ خبر تیرہ مئی کو کابل میں واقع امریکی سفارتخانے کی طرف سے وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو بھیجی گئی رپورٹ کے حوالے سے شائع کی ہے۔ پیغام میں کہا گیا تھا صدر حامد کرزئی افغانستان سے ہیروئن کی تجارت پر قابو پانے کے لیے ’اپنی قیادت کا بھرپور استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ افغانستان کے صدر حامد کرزئی امریکی دورے پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ سکیورٹی کے اہم امور کے سلسلے میں مراعات دے۔ حامد کرزئی پیر کو صدر بش سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ انہوں نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ وہ درخواست کریں گے کہ امریکی قید میں موجود افغانیوں کو واپس بھیجا جائے اور افغانستان میں جاری امریکی فوجی کارروائیوں پر بھی کنٹرول دیا جائے۔
اس سے پہلے صدر حامد کرزئی یہ مطالبہ بھی کر چکے ہیں کہ امریکی فوج کی طرف سے افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی مبینہ بدسلوکی کے معاملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نیوز ویک میں گوانتانامو جیل میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کی مبینہ بےحرمتی کی خبر شائع ہونے پر افغانستان میں ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد صدر حامد کرزئی واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس دنیا کی اسی فیصد ہیروئن افغانستان میں پیدا ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||