’افغانستان منشیات کاملک بن سکتاہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ افیوں کی کاشت میں دو تہائی اضافہ کی بنا پر افعانستان کو ڈرگ اسٹیٹ یعنی ’منشیاتی ملک‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جمعرات کو جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں امریکہ اور کثیرالملکی نیٹو افواج پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طالبان جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ منشیات کی کاشت کا بھی انسداد کریں۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں افیون کی کل پیداوار کی 87 فیصد حصہ افغانستان سے آتا ہے۔ 2003 میں اس کاروبار کی مالیت کا تخمینہ دو ارب اسی کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا جو افغانستان کی مجموعی داخلی پیداوار کے 60 فیصد کے مساوی تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ سے نجات کے بعد افغانستان کو افیون کی پیداوار سے نہ روکنا ایک تاریخی غلطی ہو گا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ افیون اس وقت اقصادی ترقی کا سن سے بڑا ذریعہ اورو ماضی میں حریف و متحارب رہنے والوں کے درمیان سب سے بڑا رشتہ ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتونیو ماریا کوسٹا کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ خواب غفلت سے بیداری کی آواز ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ افغان حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتہائی کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور کثیرالملکی نیٹو افواج کو منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنا چاہیے۔
یہ رپورٹ اس وقت جاری کی گئی ہے جب اقوام متحدہ نے افغانستان میں منشیات کی پیداوار کی روک تھام کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن سے اگلے مالی سال کے دوران افیون کی کاشت ختم کرانے اور کاشتکاروں کو متبادل ذرائع فراہم کرنے کے لیے 78 کروڑ ڈالر کے اخراجات کی توقع کی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||