| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کی پالیسی ’کامیاب ترین‘
منشیات کے خلاف طالبان کی پالیسی دوسری حکومتوں کے نسبت سب سے زیادہ کامیاب رہی۔ یہ بات برطانیہ کی لفبرا یونیورسٹی کے ایک ماہر جرمیات پروفیسر گریہم فیرل کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف افغانستان میں طالبان حکومت کی پالسی حالیہ برسوں کی کامیاب ترین پالیسی تھی۔ انیس سو نوے کی دہائی میں افغانستان دنیا کو ہیرؤین کی سب سے بڑی تعداد سمگل کرتا تھا۔ تاہم طالبان حکومت کی سخت انسداد منشیات پالیسی کے باعث دنیا میں ہیرؤین کی پیداوار میں پینسٹھ فیصد تک کمی آگئی تھی۔ جولائی سن دو ہزار سے طالبان کی یہ پالیسی عمل میں آئی اور ایک سال سے زیادہ رہی۔ ہیرؤین کو پوست سے بنایا جاتا ہے لیکن طالبان حکومت نے پوست کی کاشت پر مکمل پابندی لگادی تھی۔ پروفیسر فیرل نے بی بی سی کے ریّڈو پروگرام ’ورلڈ ٹوڈے‘ کو بتایا کہ طالبان پالیسی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اس کو مقامی سطح پر چلایا۔ مذھبی رہنماؤں اور مقامی گروپوں کو اس پر عمل کرانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی اور اگر علاقے میں پوست کی کاشت ہوتی تو انہی افراد کو جوابدہ ہونا پڑتا اور ان کو سزا ہوجاتی تھی۔ پوست کاشت کرنے والے کاشتکاروں کو بھی سزا ہوتی تھی۔ ان کے منہ کالے کر دیے جاتے اور ان کو جیل بھیج دیا جاتا۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں پوست کی کاشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر فیرل کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسی کی کامیابی سے بین الاقوامی سطح پر چلائی جانے والی انسداد منشیات پالیسی کے بارے میں کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شائد طالبان جتنے سخت گیر طریقہ کار مناسب نہ ہوں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||