BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2003, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باتھ روم فیکٹریز‘

عوام کی فلاح کے لئے ہر طرح کا مال
رنگی برنگی ڈبیوں میں بکتی دوائیاں

’ملن کیپسول، حکیم اسقلی بیوس اور حکیم بو علی سینا کا نسخۂِ خاص، عیش و نشاط کے لمحوں کو حسین اور طویل بنایئے، ہیراکیپسول۔ ’یہ ہیرا بادشاہوں کے خزانے میں نہیں ملتا‘ وغیرہ وغیرہ۔

آپ پاکستان کے کسی بھی میڈیکل اسٹور میں گھس جائیں اگر ساری نہیں تو ان تحریروں کے ساتھ چند اشیاء آپ کو رنگ برنگی شیشیوں اور ڈبوں میں پڑی ضرور نظر آئیں گی۔

یہ دوائیاں مردانہ جنسی صلاحیت بڑھانےیا اورگن ڈویلپر یعنی عضوِ تناسل کو لمبا کرنے کی دوائیاں ہیں۔

ابھی آپ ان اشتہاروں کو حیرانی و پریشانی کے عالم میں پڑھ ہی رہے ہوں گے کہ میڈیکل اسٹور والا نوجوان آپ کا شوق دیکھتے ہوئے دو درجن سے زائد گولیوں اور کیپسولوں کے ڈبے آپ کے سامنے ڈھیر کر دے گا جن کی قیمت بیس روپے فی گولی یا کیپسول سے لے کر تین سو روپے فی کیپسول تک ہو گی۔

یہ تمام دوائیں لاہور اور کراچی میں تیار کی جا رہی ہیں۔ اسٹور والا آپ کو یہ بھی بتائے گا کہ یہ وہ چند برانڈ ہیں جو اس نے لوگوں کی ’فلاح و بہبود‘ کے لیے رکھے ہیں جبکہ اتنی ہی دیگر کمپنیوں کو وہ انکار کر چکا ہے۔

اسٹور والے سے آپ کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ ان دواؤں کے ساٹھ فیصد خریدار ادھیڑ عمر کے تعلیم یافتہ افراد ہیں جبکہ چالیس فیصد غیر شادی شدہ یا ایسے افراد ہیں جن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔

ہزاروں دوائیاں دستیاب ہیں
اس قسم کی دوائیوں کے گاہکوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے

ان دواؤں میں سے بعض کی ڈبیوں پر یہ دعوے تحریر ہیں کہ عیش و نشاط کے لمحوں کو آدھا گھنٹے تک طول دیں۔

اس قسم کے اشتہار آپ کو مختلف روزناموں میں بھی نظر آئیں گے۔

اشتہارات میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان دواؤں میں عنبر اشیب، کشتہ شنگرف، عقرقرحا، خراسانی کچلہ، مشک، جوہر تخم اٹنگن، لوبان کوڑیہ، جوہر کہربائے شمعی، جوہر تعلب اور زعفران کے علاوہ بے شمار اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک اشتہار میں دوا کی شان کچھ ان الفاظ میں بیان کی گئی تھی ’یہ وہ کامیاب نسخہ ہے جسے مغل شہنشاہ استعمال کرتے تھے‘ یا ’شہنشاہ مردانگی کوکا پنڈت (پنڈت کانسی ناتھ) وزیراعظم شبو سنگھ وغیرہ استعمال کرتے تھے‘۔

ہمدرد کے رجسٹرڈ حکیمِ اعلیٰ محمد احمد زیدی کا کہنا ہے کہ ان تمام مسائل کا تعلق نفسیات سے ہے اور جعلی حکیم اور دیگر دوا فروش محض لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہیں۔

وہ یہ ماننے پر تیار ہی نہیں کہ ایسی کوئی دوا ہو سکتی ہے جو انسانی اعضا کی لمبائی بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکے۔

ان کےمطابق اگر غدود اپنا کام کرنا بند کر دیں تو اس کے باعث عضو کی نشونما پر اثر پڑ سکتا ہے مگر ایسی صورت حال بہت کم دیکھنے میں آتی ہے اور اس کا علاج میڈیکل سائنس میں ہارمونز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ننانوے فیصد مسائل نفسیاتی ہوتے ہیں اور عام طور پر بنائی جانے والی دواؤں میں بھنگ، افیم، چرس یا دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سنکھیا یا کچلا وغیرہ اعصابی نظام کمزور کر دیتا ہے جبکہ شنگرف یا یاقوت جو کہ دھات اور پتھر ہیں، ان کے استعمال سے گردوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور’ کشتہ تو یہ لوگ بنا ہی نہیں سکتے‘۔

اس بارے میں انہوں نے ایک مثال پیش کی کہ پرانے زمانے میں وید لوگ کشتے بنایا کرتے تھے اور فولاد کے کشتے کو بنانے میں ایک سو بیس روز تک مسلسل ہلکی آنچ پر رکھا جاتا تھا اور مختلف جڑی بوٹیوں کو اس میں شامل کیا جاتا تھا۔

اخبارات اور رسائل میں اشتہارات
اپنا مال بیچنے کی کوششیں

’ایک سو بیس روز میں فولاد فولاد نہیں رہتا تھا بلکہ سفوف کی شکل اختیار کر لیتا تھا جو کہ پانی میں حل ہو جاتا تھا اور گردے اسے خارج کر دیتے تھے مگر اب اتنی محنت کوئی نہیں کرتا۔ لہذا موجودہ کشتے جگر اور گردوں کے لیےقطعی نقصان دہ ہوتے ہیں۔‘

حکیم زیدی نے بتایا کہ اکثر لوگ ان کے پاس ایسے جنسی مسائل لاتے ہیں لیکن ہم انہیں دواؤں کی بجائے مختلف تکنیکوں کے ذریعے علاج پر راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں سکریٹری ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ اور چیف ڈرگ انسپکٹر لاہور جناب عبدالاسلام مفتی ان دواؤں کو بنانے والی کمپنیوں کو ’باتھ روم فیکٹریز‘ کہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ابھی تک کوئی ایسا قانون نہیں بنا جو ان دواؤں کی تیاری، کوالٹی، فروخت یا سٹور کرنے کے طریقۂ کار پر اثر انداز ہو سکے۔

’لہذا جب تک ہمیں کوئی ایسی شکایت موصول نہ ہو جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان دواؤں میں نشہ آور یا انگریزی دواؤں کے اجزاء شامل کیے گئے ہیں اس وقت تک ہم کچھ نہیں کر سکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے طبِ یونانی، ہومیو پیتھک اور ویدک ایکٹ دو ہزار تین کے تحت ایک سرکلر تمام صوبوں کو روانہ کیا ہے جس میں ان ادویات کی تیاری اور رجسٹریشن سے متعلق آراء طلب کی گئی ہیں۔

’مگر یہ ایکٹ بھی ان ادویات کی فروخت سے متعلق مسائل کی طرف سے خاموش ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہم اپنی رائے لکھ کر بھیج چکے ہیں اب دیکھیئے کہ یہ بل پاس ہونے میں کس قدر وقت لگتا ہے۔

بل کب پاس ہو گا اور اس پر عمل درآمد کب ہو گا۔ لیکن اس دوران رنگ برنگی بوتلوں کے متلاشیوں کے تو میڈیکل سٹورز کے کاؤنٹروں کے چکر لگتے رہیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد