منشیات سمگلنگ، نورزی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بشیر نورزئی کی گرفتاری کو افغانستان میں منشیات اور ہیروئین کی اسمگلنگ کے خلاف جاری جدوجہد میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ اٹھارہ ماہ قبل اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان منشیات اور ہیروئین سمگلروں کی مافیا کی ریاست بنتا جارہا ہے۔ اس عرصہ میں بشیر نورزئی منشیات کے پہلے مبینہ سمگلر ہیں جن کو گرفتار کیا جاسکا ہے۔ ان کی گرفتاری سے ممکن ہے کہ افغانستان میں شدت پسندوں اور ہیروئین مافیا کے درمیان روابط کی نوعیت کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار چار میں افغانستان میں پوست کی کاشت ریکارڈ چار ہزار دوسو میٹرک ٹن تک پہنچ گئی تھی جو کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی پوست کی پیداوار کا نوے فیصد ہے۔ اس پوست سے پیدا ہونے والی ہیروئین اور منشیات کی مالیت عالمی منڈی میں ڈہائی ارب ڈالر بتائی جاتی ہے جو کہ افغانستان کے کل قومی پیداوار کا چالیس سے ساٹھ فیصد ہے۔ امریکی حکام کے مطابق منشیات کے اس کاروبار میں نورزئی مرکزی حیثیت کے حامل تھے۔ گزشتہ سال نورزئی کو افغانستان کا سب سے بڑا سمگلر قرار دیا گیا تھا اور امریکی قانون ’امیرکن فارن نارکوٹکس کنگ پن ڈیزگنیشن ایکٹ‘ کے تحت تیار کی جانے والی سمگلروں میں فہرست میں اول نمبر پر تھے۔ امریکی کانگرس نے اپنی ایک رپورٹ میں نورزئی اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے منشیات کے مبینہ اسمگر جمعہ خان کو منشیات کے کاروبار اور شدت پسندوں کے درمیان رابط کار قرار دیا تھا۔ طالبان، القاعدہ اور گل بدین حکمت یار کی حزب اسلامی پارٹی ان گروپوں میں شامل تھیں جن کے رپورٹ کے مطابق منشیات کے اس عالمی کاروبار سے روابط تھے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا نورزئی طالبان کے رہنما ملا عمر کے قریبی مشیروں میں تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کا تعارف نورزئی نے ہی کرایا تھا۔ طالبان کے دور میں پوشت کی کاشت کو نوے فیصد تک ختم کر دیا گیا تھا۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان نے ہیروئین کے عالمی منڈی میں بھاؤ بڑھانے کے لیے پوست کو ذخیرہ کرلیا تھا۔ جمعہ خان کو بھی مبینہ طور پر ہیروئین مافیا کا ایک اہم رکن تصور کیا جاتا ہے اور ان کے طالبان کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||