افغانستان پوست کی کاشت کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اور افغان حکومت کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت میں کمی آئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق دفتر اور افغان حکومت کے اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت اس سال افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے زیادہ میں کسانوں نے متبادل فصل کاشت کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ سروے افغانستان کے دو سو گاؤں میں کیا گیا۔ ابھی تک اس سروے کے اعداد وشمار میسر نہیں ہیں لیکن ان سے ایک مثبت تصویر ابھرتی نظر آتی ہے۔ طالبان کے دور کے آخری سال میں پوست کی کاشت پر پابندی لگا دی گئی تھی لیکن ان کے خاتمے کے ساتھ ہی اس فصل کی کاشت اکثر علاقوں میں پھر سے شروع ہوگئی جس سے بین الاقوامی برادری میں تفتیش بڑھ گئی کہ اس کی وجہ سے ہیروئین کی سمگلنگ یورپین مارکیٹ بڑھ جائے گی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ پوست کی کاشت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بے شک یہ سروے کی ابتدائی رپورٹ ہے تاہم یہ صورتحال میں بہتری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ افغانستان کے وہ صوبے جو پوست کی کاشت کے لیے مشہور ہیں جیسے ننگرہار، ہلمند اور ارزگان میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ اور حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ منشیات پر سخت کنٹرول اور کسانوں کو متبادل فصل مہیا کرنا ہے۔ لیکن اس سروے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ افغانستان کے پانچ صوبوں میں جن میں کندھار بھی شامل ہے پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ انسداد منشیات کے وزیر حبیب اللہ قادری کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجہ ان علاقوں میں خشک سالی اور متبادل فصلوں کے لیے فنڈز میں کمی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اصل صورتحال منشیات کے سالانہ سروے کے بعد واضح ہو گی جو بعد میں کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||