صدر بش کی نجی گفتگو ریلیز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دو ہزار میں صدارتی انتخاب سے پہلے صدر بش کے نجی گفتگو سے اس بات کی طرف اشارے ملتے ہیں کہ وہ بھی چرس پیا کرتے تھے۔ لیکن اس کا اعتراف انہوں نے اس لیے نہیں کیا کہ اس سے ایک بُری مثال جنم لے گی۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیرقانونی منشیات سے متعلق سوالات کا جواب اس لیے نہیں دیا کیونکہ اس معاملے کے اچھالے جانے سے وہ الیکشن ہار سکتے تھے۔ صدر بش کی یہ گفتگو ان کے والد کے ایک مشیر نے ریکارڈ کی تھی اور اب اس کے کچھ اقتباسات ریلیز کیے جا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اگرچہ اس گفتگو کے اصلی ہونے پر کسی طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا۔ تاہم وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس گفتگو کے متن پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلیلن کے مطابق یہ اس وقت ٹیکساس کے گورنر بش کی غیر رسمی گفتگو تھی جو ایک ایسے شخص سے ہو رہی تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کا دوست ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اور ترجمان ٹرینٹ ڈفی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ صدر بش کے منشیات استعمال کرنے کے بارے میں سوال کا جواب اتنی مرتبہ دیا جا چکا ہے کہ اس میں اب کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ گفتگو اس وقت ریکارڈ کی گئی تھی جب صدر بش سن دو ہزار میں صدرارتی انتخاب میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے والد صدر بش سینیئر کے سابق صدارتی مشیر ڈوگ ویڈ سے کئی نجی ملاقاتیں کیں۔ سن انیس سو اٹھانوے اور سن دو ہزار کو ہونے والی دو ملاقاتوں کو مسٹر ویڈ نے خفیہ طریقے سے ریکارڈ کر لیا۔ مسٹر ڈوگ ویڈ نے اپنی کتاب ’دی ریزنگ آف اے پریزیڈنٹ‘ کی اشاعت کے موقع پر ان ملاقاتوں کے متن کے کچھ منتخب حصے ریلیز کیے ہیں۔ تاہم نجی نوعیت کی باقی گفتگو قانونی وجوہات کے باعث ابھی تک محفوظ ہے۔ ریلیز کی گئی گفتگو میں صدر بش نوجوانی میں شراب نوشی سے متعلق مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ صد بش کے مطابق ان کے یہ مسائل چالیس سال کی عمر تک جاری رہے جب مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان میں بیداری پیدا ہوئی۔ لیکن انہوں نے کسی مرحلے پر بھی منشیات استعمال کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔ تاہم ریلیز کی گئی گفتگو میں مستقبل کے امریکی صدر چرس پینے سے متعلق کیے گئے سوالات کا جواب دینے سے اپنے انکار پر بات چیت کرتے ہیں۔ ’میں چرس سے متعلق سوال کا جواب نہیں دوں گا۔‘ ’آپ کو پتا ہے کیوں؟ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ بچے بھی وہی کریں جو میں نے ’ٹرائی‘ کیا۔‘ صدر بش کو ڈر تھا کہ ان کا اعتراف صدارتی انتخاب جیتنے کی صورت میں ان کے مرتبے کو متاثر کرے گا۔ ’آپ کو سمجھنا چاہیے، میں صدر بننا چاہتا ہوں، میں (عوام کی) رہنمائی کرنا چاہتا ہوں۔‘ ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا چھوٹا سا بیٹا آپ سے کہے کہ ڈیڈی صدر بش چرس پیتے رہے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے میں (اعتراف) کر لوں گا؟‘ ’میں ایسے سوالوں کے جواب نہیں دوں گا کیونکہ ان کی وجہ سے مجھے صدارت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔‘ ریلیز کی گئی گفتگو میں صدر بش اپنے مدمقابل ڈیموکریٹ امیدوار الگور کا مذاق اڑاتے ہیں جنہوں نے کنابس پینے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے الگور کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||