 |  ’سخت زبان کے استعمال پر بیوی سے ڈانٹ پڑتی ہے۔‘ |
امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں زیادہ سفارتی زبان میں بیانات دیا کریں گے اور یہ کہ انہیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ کئی مرتبہ سخت زبان کے استعمال سے غلط تاثر پیدا ہوجاتا ہے۔ مسٹر بش نے، جن کے سخت اور عامیانہ انداز کے بیانات خاصی شہرت رکھتے ہیں، کہا کہ انُہیں اسامہ بن لادن کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں ’زندہ یا مردہ‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے پر افسوس ہے۔ صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ بہت عامیانہ انداز میں بات کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ سیکھا ہے کہ اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہئیے اور وہ مستقبل میں محتاط رہیں گے۔ عراق میں مزاحمت کاروں کے بارے میں جولائی دو ہزار تین میں صدر بش کے ایک بیان پر شدید رد عمل آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم انُ کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں۔‘ صدر بش نے کہا کہ اس بیان کے ذریعے ان کا مقصد محض فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا لیکن اس کے بہت سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ صدر بش نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد انہوں نے اسامہ بن لادن کے بارے میں جب ایک بیان میں ’زندہ یا مردہ‘ کے الفاظ استعمال کئے تھے تو انُ کی اہلیہ لارا بش نے انُ کی بہت سرزنش کی تھی اور اب وہ اس سلسلے میں احتیاط برتیں گے۔ |