صدر بش: سال کی شخصیت کا ایوارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹائم میگزین نے اس برس ’سال کی شخصیت‘ کا ایوارڈ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کو دیا ہے۔ میگزین نے یہ ایوارڈ ان کے نام کرتے ہوئے کہا کہ جارج بش ’اپنے دھن کے پکے نکلے‘ اور انہوں نے اپنے ووٹروں کو اس بات کا قائل کیا کہ وہ مزید چار برس کے لیے وائٹ ہاؤس میں رہنے کے اہل ہیں۔ امریکہ میں گزشتہ انتخابات کے موقع پر جب الگور صدر بش کے خلاف امیدوار تھے، نتائج متازعہ ہوگئے تھے لیکن اس سال جارج بش نے اپنے سیاسی حریف جان کیری پر واضح سبقت حاصل کر لی۔ ٹائم میگزین کا صدر بش کے لیے سال کی شخصیت کے ایوارڈ کا اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب صدر بش چند دنوں بعد دوبارہ حلف اٹھانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور عراق میں امریکہ فوج جنوری کے آخر میں انتخابات کرانے کے لیے تشدد کے خاتمے میں کوشاں ہیں۔ ٹائم میگزین ہر سال کے آخر پر کسی نہ کسی کو سال کی شخصیت قرار دیتا ہے اور ایسا انیس سو ستائیس سے ہو رہا ہے۔ پہلا ایوارڈ خلاباز چارلس لنڈبرگ کو دیا گیا تھا۔ ٹائم میگزین کا وہ شمارہ جس میں صدر بش کو سال کی شخصیت قرار دیا گیا ہے، پیر کے روز فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔ میگزین کے ایڈیٹر جم کیلی کا کہنا ہے کہ ’ظاہر سے بات ہے کہ صدر بش کے بہت سے حمایتی اس ایوارڈ سے خوش ہوں گے لیکن وہ جو صدر بش کو پسند نہیں کرتے افسوس کریں گے۔‘ ’لیکن وہ لوگ بھی جنہوں نے اس مرتبہ صدر بش کو ووٹ نہیں دیا ، یہ بات مانیں گے کہ صدر بش گزشتہ پچاس برس میں شاید سب سے زیادہ با اثر امریکی صدر ثابت ہوئے ہیں۔‘ میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر بش نے کہا کہ ان کی جان کیری پر فتح کا سبب ان کی خارجہ پالیسی اور افغانستان اور عراق میں جنگیں تھیں۔ اس وقت لوگوں میں صدر بش کی پسندیدگی کی ریٹنگ اننچاس فیصد ہے۔ صدر بش کو ٹائم میگزین کا یہ ایوارڈ ایک بار پہلے بھی مل چکا ہے۔ صدر بش اب ان چھ امریکی صدور کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں ٹائم میگزین کا ایوارڈ دو مرتبہ دیا گیا ہے۔ ان میں ہیری ٹرومین، آئزن ہاور، لنڈن جانسن، رچرڈ نکسن، رونالڈ ریگن اور بل کلنٹن شامل ہیں۔ فرینکلن روزویلٹ واحد امریکی صدر ہیں جنہیں یہ ایوارڈ تین مرتبہ دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||