سونامی: تین صدور کی مشترکہ اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش ان کے والد اور سابق صدر جارج بش سینیئر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق صدر بل کلنٹن نے امریکیوں سے کہا ہے کہ وہ ایشیاء میں سونامی سے متاثر ہونے والوں کی امداد کریں۔ دو سابق صدور موجود صدر جارج بش کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اکٹھے کھڑے نظر آئے اور انہوں نے امریکی شہریوں اور کاروباری طبقات سے مشترکہ طور پر اپیل کی کہ وہ سونامی کے متاثرین کی مدد کریں۔ بش انتظامیہ پہلے ہی ان متاثرین کے لیے تین سو پچاس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر چکی ہے اور امریکی بحریہ دور دراز علاقوں میں یہ امداد تقسیم کر رہی ہے۔ جہاں سونامی کی وجہ سے تباہی آئی ہے وہاں ہزاروں امریکیوں کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر امریکہ میں کہا گیا ہے کہ پندرہ امریکی سونامی کی نذر ہوئے ہیں۔ ان میں سے آٹھ تھائی لینڈ میں جبکہ سات سری لنکا میں مارے گئے۔ صدر بش نے کہا کہ دونوں سابق صدور (بل کلنٹن اور جارج بش سینیئر) لوگوں کو امداد کے لیے کی گئی اپیل کے نگراں ہوں گے۔ انہوں نے کہا: ’میں ہر امریکی سے کہتا ہوں کہ وہ اس کام میں شریک ہو۔‘ دریں اثناء بحر ہند میں سونامی کی تباہی کے ایک ہفتے بعد بھی ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں شاید کبھی پتہ نہ چل سکے کیونکہ بہت سی لاشیں سمندر میں بہہ گئی ہیں۔ سونامی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ اس سانحے میں اس کے چورانوے ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد اب ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ سری لنکا اور بھارت کا کہنا ہے کہ گیارہ ہزار کے قریب لاپتہ افراد کے لیے ان کی امید ختم ہو رہی ہے۔ سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں ہلاک ہونے والے اٹھائیس ہزار افراد میں سے چالیس فیصد بچے تھے۔ سانحے سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع ہو چکی ہے۔ بحرِ ہند کے مختلف علاقوں میں جو سونامی کی زد میں آئے اٹھارہ لاکھ افراد کو خوراک کی ضرورت ہے۔ پچاس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ انڈونیشیا کے متاثرہ علاقوں میں امریکہ، آسٹریلیا اور ملیشیائی فوج ضروری سامان پہنچا رہی ہے۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||