نشے اور گِلو کا’بانڈ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کا ایک ہجوم نشہ آور محلول سے بھری بوتلیں اٹھائے لاہور کی بادشاہی مسجد کے ساتھ جمع ہے۔ یہ بچے خوراک، کپڑے اور ادویات سے بھرے رکشے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہی بچوں کی خواہش کے مطابق رکشے پر سیاہ رنگ میں مسکراتا ہوا چہرہ بنایا گیا ہے اور امدادی تنظیم کا نام ’پروجیکٹ سمائل‘ بھی بچوں کے رضامندی کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ پندرہ سالہ سنی ان بچوں کا باس تصور کیا جاتا ہے۔ سنی نے پروجیکٹ سمائل کے کارکن کو بتایا کہ ’میں منشیات کا استعمال ترک کر چکا ہوں۔ البتہ سنی نے اعتراف کیا کہ ’میں صبح سویرے چرس پیتا ہوں لیکن سریش کا استعمال چھوڑ دیا ہے۔‘ اس بات کی دانستہ کوشش کی جار رہی ہے کہ بچوں کو کسی بھی اخلاقی معیار پر نہ جانچا جائے تاکہ وہ خود کو الگ محسوس نہ کریں اور یہ موقف تجربے کی بنیاد پر ہی اپنایا گیا ہے کیونکہ امدادی تنظیم کے اسی فیصد کارکن ماضی میں خود بھی منشیات کے عادی رہ چکے ہیں۔
پروجیکٹ سمائیل کے بانیوں میں شامل احمد بخش اعوان کہتے ہیں کہ ایک مسلم مملکت میں منشیات کے استعمال کو عموماً شرمناک تصور کیا جاتا اس لیے نشہ کے عادی ہونے کے حوالے سے ان بچوں کے جذبات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ امدادی تنظیم کے مطابق لاہور میں پانچ ہزار بےگھر بچوں کی پچانوے فیصد تعداد مخصوص محلول سونگھ کر نشہ کرتی ہے جبکہ بہت سے بچے زیادہ خطرناک منشیات بھی استعمال کرتے ہیں۔ جوتوں کے تلوے جوڑنے کی غرض سے استعمال کی جانے والی صمد بانڈ کو سونگھ کر نشہ کرنے کے لیے سب سے سستا محلول تصور کیا جاتا ہے۔ سنی کا کہنا ہے کہ بہت سے بچوں کو تشدد اور جنسی جرائم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پروجیکٹ سمائل کا رکشہ چلانے والے ڈاکٹر سعید کہتے ہیں کہ بچے مختلف قسم کی ذہنی پیچیدگیوں اور امراض سے دوچار ہیں جن میں سینے اور پیٹ کے اراض کا سبب صمد بانڈ کا سونگھنا بنتا ہے۔ ڈاکٹر صمد اور ان کے ساتھیوں کو فخر ہے کہ سمائیل کا موبائل یونٹ دس ماہ میں خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ پروجیکٹ سمائیل کے کارکن بےگھر بچوں کے نہ صرف بال اور ناخن کٹواتے ہیں بلکہ عام طور پر انہیں مفت کھانا کھلانے کے علاوہ انہیں صحت مند زندگی گزارنے اور پیسے کمانے کے بارے میں مفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||