افغان سمگلر اورعالمی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں ہماری ملاقات ایک سمگلر سے ہوئی۔ جب ہم اس کے ساتھ اس کےعلاقے میں پہنچے تو اس نے ایک شاندار نئے بنگلے کی جانب اشارہ کیا جو اس کا گھر تھا۔ سمگلر کا کہنا تھا کہ یہ عالیشان بنگلہ منشیات کی کمائی سے بنایا گیا ہے۔ اپنے گھر میں اس نے ہمیں دس کلو افیون دکھائی جس کی بو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس ایک ٹن سوکھی افیون ہے جو اس نے ایران کی سرحد کے نزدیک ریگستان میں چھپا رکھی ہے۔ اور ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ اگر ہم نے اس کی شناخت ظاہر کی تو ہمارے لیے ٹھیک نہیں ہوگا۔ لیکن ملک کے اس جنوبی علاقے میں جہاں مرکزی حکومت کا کنٹرول کمزور ہے منشیات کے سمگلروں پر کابل اور واشنگٹن سے جاری ہونے والی دھمکیوں کا نسبتاً کوئی اثر نہیں ہوتا۔ امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کو متبادل روزگار مہیا کرانے کی ضرورت ہے۔ اس سال امریکہ نے افغانستان میں منشیات سے نپٹنے کے لیے اپنے فنڈز میں تین گنا سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے۔ اپریل میں منشیات کی روک تھام کے لیےامریکہ کی جانب سے نئی تربیت یافتہ فوج قندھار صوبے میں منشیات کے خاتمے کے لیے بھیجی گئی تھی اوراس فورس کو پہلے ہی آپریشن میں مائیوند قصبے کے نزدیک زبردست فائرنگ کرکے باہر نکال دیا گیا۔ منشیات کے سمگلروں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بات کا خوف نہیں ہے کیونکہ خود حکومت میں ہی بہت سے افسران اس دھندے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سمگلر نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر میں رشوت نہ دوں تو میں کام نہیں کر سکتا۔‘ سمگلر کا کہنا تھا کہ ’ہر کمانڈر اور ہر جنگجو جو آج منشیات کا دھندہ نہیں کرتا، پہلے کیا کرتا تھا ان کے پاس اب اتنی دولت جمع ہو چکی ہے جو زندگی بھر کے لئے کافی ہے اور اب ان کو کام کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔‘ سمگلر نے کئی اہم مقامی شخصیات کا نام لیا جو بقول اس کے براہ راست یا بلواسطہ طور پر اس دھندے سے وابستہ ہیں۔ سمگلر نے یہ اعتراف کیا افیون کی سمگلنگ کے بڑے بڑے راستوں کوبند کرنے کی مرکزی حکومت کی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ لیکن اس کا کہنا تھا کہ متبادل راستے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ سمگلر کے مطابق ایرانی سرحد کے نزدیک ریگستانی علاقے سے منشیات آسانی سے ایران، عراق اور پاکستان پہنچائی جا سکتی ہیں۔ سمگلر کا کہنا تھا’ہم منشیات کو اس علاقے تک لیجانے کےلیے لینڈ کروزر گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں اور وہیں ریگستان میں دبا کر اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔
منشیات کی نگرانی کرنے والے پولیس اور ڈاکوؤں سے اس کے تحفظ کے لیے اپنے پاس ہتھیار رکھتے ہیں۔ جب بھی کوئی گاہک ملتا ہے منشیات اس کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ تاہم سمگلر نے ایک بات کا اعتراف کیا کہ سمگلروں کو زمینی حملے کا تو کوئی ڈر نہیں ہے لیکن امریکی فضائی حملوں کا خوف ضرور ہے اسمگلر کا کہنا تھا’جہاز کہیں بھی ہمارا پیچھا کر سکتے ہیں اس لیے لوگوں کو فضائی حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔‘ پوست کی کاشت کو ختم کرنے کی مہم کو ملی جلی کامیابی ملی ہے۔ اسمگلر نے بتایا کہ قندھار اور ہلمند میں کوئی ایک بڑا سمگلر نہیں ہے بلکہ تقریباً دس ہزار سمگلر ہیں۔ سمگلر کا کہنا تھا اگرپورے قندھار کی زمین کو بھی صاف کر دیا جائے تب بھی ہر چھوٹے سے چھوٹے کسان کے پاس کہیں نہ کہیں افیون کا تھوڑا بہت ذخیرہ چھپا ہوا ہے اور کسان اس معمولی سے ذخیرے سے بھی اتنی رقم کما سکتے ہیں جو وہ ایک ایکڑ زمین سے کماتے ہیں۔ سمگلر کا کہنا تھا کے افیون کی مانگ بہت زیادہ ہے خاص طور پر یورپ میں اور سپلائی کم اس لیے اس کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے۔ جب ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کو معلوم ہے کہ بیرونی ممالک میں اس منشیات کے استعمال کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟ اس نے کہا ’میں جو بھی ہوں لیکن کسی کا قتل تو نہیں کر رہا کوئی اور غیر قانونی کام بھی نہیں کر رہا، میری اپنی زندگی ہے، بیوی بچے، ماں پاپ، بھائی بہن ہیں اور ہم اسلام کی حد میں رہ کر زندگی گزارتے ہیں‘۔ جب ہم اس سمگلر کے ساتھ واپس شہر جا رہے تھے تو راستے میں پولیس کی ایک چوکی پڑی جہاں پولیس کے لوگ اس کے ساتھ بہت گرمجوشی سے ملے جس پر سمگلر نے کہا ’یہ میرے دوست ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||