منشیات سمگلرز کو سزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دنیا بھر میں بین الاقوامی سطح پر منشیات کے خلاف منائے جانے والے دن کے موقع پر چینی حکام نے منشیات کا کاروبار کرنے والے درجنوں افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ژنوا کے مطابق چانگ کنگ شہر میں چلائے جانے والے مقدمے میں سنیچر کے روز سولہ افراد کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ شنگھائی میں ایک شخص کو دی گئی موت کی سزا پر عمل درآمد بھی کیا گیا ہے۔ ژنوا کی ویب سائٹ ’ژنوا نیٹ‘ پر جمعہ کو یہ بتایا گیا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی منشیات کا کاروبار کرنے والے مجرموں کو دی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ چینی حکام ملک میں منشیات کے سلسلے میں دی جانے والی سزائے موت ختم کر دیں۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو برما سے ایک عشاریہ آٹھ کلو ہیروئین سمگل کرنے کے جرم میں شنگھائی میں سنیچر کے روز موت کی سزا دی گئی۔ ایجنسی کے مطابق یونن، گوانگ ڈانگ، زیجیانگ، شانکژی اور زنجیانگ کے صوبوں میں بھی منشیات کا کاروبار کرنے والے مجرموں کی موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ چین میں جن منشیات کی سمگلنگ کے سلسلے میں حالیہ کارروائی کی گئی ہے ان میں زیادہ تر کیس ہیروئین، افیون اور افیڈرین سے متعلق ہیں۔ تاہم ایمنسٹی نٹرنیشنل کا اصرار ہے کہ بیجنگ سزائے موت کے اطلاق پر ممانعت عائد کر دے۔ ایمنسٹی کے مطابق ماضی میں منشیات کے سمگلروں کو موت کی سزا دینے سے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ چین کی سرحدیں جنوب مشرقی ایشیا کے ان ممالک اور افغانستان سے ملتی ہیں جہاں پوست کی کاشت دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ کی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||