’بگرام جانے دیا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے اپنی اپیل کو دہرایا ہے کہ امریکہ افغانستان میں انسانی حقوق کے تفتیش کاروں کو بگرام کے متنازعہ فوجی اڈے جانے کی اجازت دے۔ یہ اپیل امریکی فوج کی اُس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کی گئی ہے جس میں قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی مبینہ زیادتی میں دو افغانوں کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا تھا۔ افغانستان میں موجود اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ ایسی بدسلوکی ’صریحاً ناقابلِ قبول‘ ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ان الزامات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد شدید صدمے اور حیرت کا اظہار کیا تھا اور امریکی حکام کا کہنا تھا اِن واقعات کے ذمہ دار افراد کا محاسبہ کیا جائے گا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جین آرنولٹ نے کابل میں اتوار کے روز بگرام کے امریکی فوجی اڈے اور حراستی مرکز سے متعلق تنازعہ پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’بدسلوکی کے واقعات کی سنگینی اس بات کا تقاضا کرتی ہے ان ناقابلِ معافی جرائم میں ملوث تمام افراد کو سزا دی جائے جیسا کہ صدر حامد کرزئی نے بھی مطالبہ کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ بات انتہائی اہم ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی فوج افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔‘ اقوام متحدہ کے ترجمان رچرڈ پرو وینچر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کے آزاد کمیشن کو بگرام فوجی اڈے تک رسائی کی اجازت ہونی چاہیے۔ تاہم امریکی فوج نے اقوام متحدہ کے اس مطالبے کا ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||