بد سلوکی ناقابلِ قبول ہے: کرزئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سرکاری دورے پر روانگی سے چند گھنٹے پہلے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بگرام کے فوجی اڈے پر قیدیوں سے امریکی فوجیوں کی بدسلوکی کے الزامات پر صدمے اور دھچکے کا کھلے عام ذکر کیا۔ الزامات کے مطابق ایک قیدی کو چوبیس گھنٹے میں کم از کم ایک سو بار پیٹا گیا جس کے باعث وہ ہلاک ہو گیا۔ یہ الزامات امریکی فوجی تفتیش خفیہ طور پر روزنامہ نیو یارک ٹائمز کے ہاتھ لگنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکی فوجیوں کی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس مبینہ رویے کو ناقابل قبول قرار دیا اور اس کی مذمت کی ہے۔ افغانستان کے صدر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دو قیدیوں کی ہلاکت اور دیگر کے ساتھ بد سلوکی کے ذمہ دار فوجیوں کو سزا ملنی چاہیے۔
قیدیوں کے ساتھ مبینہ بد سلوکی کی خبر امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز نے شائع کی۔ دو ہزار صفحات پر مشتمل یہ دستاویز امریکی فوجی کی جانب سے کی جانے والی تفتیش سے متعلق ہے۔ اخبار نے مبینہ طور پر سن دو ہزار دو میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی کی جزئیات کی حد تک شائع کی ہیں جن کے مطابق نوجوان اور غیر تربیت یافتہ امریکی فوجیوں نے قیدیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ مرنے والے افغان قیدیوں میں ایک نوجوان ٹیکسی ڈرائیور تھا جس کا نام دلاور تھا جبکہ دوسرے کا نام حبیب اللہ تھا۔ یہ دنوں بگرام میں واقع امریکی حراستی مرکز میں دسمبر سن دو ہزار دو کو مارے گئے تھے۔
نیو یارک ٹائمز میں یہ خبر اس وقت شائع ہوئی ہے جب حامد کرزئی سنیچر کو امریکہ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق حامد کرزئی کا چار روزہ دورہ گزشتہ دنوں نیوز ویک کی خبر کے بعد افغانستان میں ہونے والے امریکہ مخالف مظاہروں کی نذر ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ نیو یارک ٹائمز میں لگنے والے الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق دلاور اور حبیب دونوں کو کئی مرتبہ مارا پیٹا گیا ۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب اللہ اور بگرام کے جیلر کے درمیان زبانی نہیں بلکہ مار پیٹ کے ذریعے رابطہ ہوتا کیونکہ اسے مدافعت پسند قیدی سمجھا جاتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||