BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگرام قید خانےمیں تشدد: رپورٹ
News image
امریکی فوجیوں کے ہاتھوں افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکی فوجی کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے حوالے سے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تفتیشی رپورٹ دو ہزار صفحات پر مبنی ہے۔

اخبار نے مبینہ طور پر سن دو ہزار دو میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی کی جزئیات کی حد تک شائع کی ہیں جن کے مطابق نوجوان اور غیر تربیت یافتہ امریکی فوجیوں نے قیدیوں کے ساتھ زیادتی کی۔

امریکی فوج نے دو افغان قیدیوں کی موت پر تفتیش کا حکم دیا تھا جس کے بعد قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ مرنے والے افغان قیدیوں میں ایک نوجوان ٹیکسی ڈرائیور تھا جس کا نام دلاور تھا جبکہ دوسرے کا نام حبیب اللہ تھا۔ یہ دنوں بگرام میں واقع امریکی حراستی مرکز میں دسمبر سن دو ہزار دو کو مارے گئے تھے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق دلاور اور حبیب دونوں کو کئی مرتبہ مارا پیٹا گیا ۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب اللہ اور بگرام کے جیلر کے درمیان زبانی نہیں بلکہ مار پیٹ کے ذریعے رابھطہ ہوتا کیونکہ اسے مدافعت پسند قیدی سمجھا جاتا تھا۔

اخبار نے امریکی تفتیش کے حوالے سے لکھا ہے کہ کمزر تربیت والے امریکی فوجیوں نے کئی بار حبیب اللہ کے ساتھ زیادتی کی اور اسی حبیب پر اسی شدید سلوک کی وجہ سے سات امریکی فوجیوں کے خلاف باقاعدہ الزام عائد کیا گیا۔ روپورٹ کے مطابق قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی صرف مرنے والے دو قیدیوں تک محدود نہیں تھی۔

نیو یارک ٹائمز کے دعوے کے مطابق بگرام کے حراست خانے میں گارڈز بلا کسی خوف کے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے قیدیوں کو جب چاہتے مار سکتے تھے۔ جن قیدیوں کو اہم یا مشکل قیدی سمجھا جاتا انہیں ہتھکڑی بھی لگا دی جاتی اور انہیں زنجیروں کے ساتھ قید خانے کی چھت یا دروازے کے ساتھ باندھ دیا جاتا۔ کھبی کبھار یہ سزا طویل دورانیے کی ہوتی تھی۔

فوجیوں نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا کہ ایک خاتون فوجی نے ایک زیرِ حراست قیدی کی گردن پر پاؤں رکھا جبکہ دوسرے کا جنسی اعضاء پر ضربیں لگائیں۔

امریکی تفتیش کاروں کو بتایا گیا کہ بگرام میں بہت سے قیدی فوجیوں کی بات مانتے تھے اور ان کا طرز عمل خراب نہیں تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد