ابو غریب، خاتون فوجی کو سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے عراق میں ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات میں مجرم قرار دیے جانے والی خاتون سپاہی کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ فوج کی ستائیس سالہ سپاہی سبرینا ہارمن کو کل ریاست ٹیکساس میں آٹھ فوجی افسروں پر مشتمل پینل نے سات میں سے چھ الزامات کا قصوروار پایا تھا۔ ان کو ساڑھے پانچ سال قید تک کی سزا ہو سکتی تھی۔ بدھ کو سزا کی سنوائی کی پیشی میں سبرینا ہارمن نے اپنی حرکتوں کے لیے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی حفاظت اور دفاع کرنے کے مشن میں نا کام رہی۔ میں نے نہ صرف عراق کے لوگوں بلکہ آج کے ہر فوجی کو مایوس کیا ہے۔‘ سبرینا ہارمن ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے الزامات میں فوجی مقدمے کا سامنا کرنے والے نو فوجیوں میں سے آخری ملزم ہیں۔ بدسلوکی اور تشدد کرنے میں ان فوجیوں کے لیڈر چالرلز گرینر کو جنوری میں کورٹ مارشل کے بعد دس سال کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||