ابوغریب: تشدد کے مزید الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ابوغریب کا نام گزشتہ سال اپریل میں عراقی جیلوں میں قیدیوں پر امریکی فوج کے تشدد کے لیے خاصا مشہور ہوا۔ یہ نام خبروں کا حصہ اُن تصویروں کی اشاعت کے بعد بنا جن میں امریکی فوجیوں کو عراقی قیدیوں کی جنسی تذلیل کرتے دکھایا گیا تھا۔ بش انتظامیہ اِس سلسلے میں اس بات پر زور دیتی رہی کہ یہ واقعات اکا دکا ہی تھے جن میں امریکی فوج کے صرف چھوٹے عُہدوں کے فوجی ہی ملوث تھے اور انہیں ان جرائم کی سزا بھی دی گئی۔ امریکی انتظامیہ کی اِس سوچ کو اب امریکی سول لبرٹیز نامی ایک تنظیم نے چیلنج کیا ہے۔ اے سی ایل یو نے عدالت سے جا کر قیدیوں پر تشدد کے الزامات کے وہ کاغذات حاصل کیے جو پہلے کبھی شائع نہیں ہوئے۔ اے سی ایل یو نے کہا ہے کہ ان کاغذات میں تشدد کے باوثوق الزامات دیے جانے کے باوجود تفتیش کاروں کی ان الزامات کے سراغ اور شہادتوں کو ڈھونڈنے میں ناکامی کی غیر معمولی شہادتیں ملتی ہے۔ اے سی ایل یو کے ترجمان جمیل جعفر نے تکرت کے ایک ایسے عراقی قیدی کی مثال بھی دی جس نے الزام لگایا ہے کہ اُسے اسکے امریکی جیل محافظوں نے دھمکایا اور بیس بال بیٹ سے بھی پیٹا۔ اس قیدی کو اس وقت تک امریکی تحویل میں رکھا گیا جب تک اُس نے اپنے اوپر تشدد کرنے والے امریکی فوجیوں پر لگائے جانے والے الزامات واپس لینے کی حامی نہ بھرلی۔ اے سی ایل یو کے ترجمان جمیل جعفر نے یہ بھی کہا کہ’ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت ہی فکر انگیز بات ہے اور وہ اس لیے کہ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ |ِس طرح کے اور کتنے واقعات کو اِسی انداز میں دبا دیا گیا ہوگا۔‘ جب گزشتہ سال اپریل میں پہلی مرتبہ ابو غریب جیل میں قیدیوں پر کیے جانے والے تشدد کی تصاویر نے دنیا کو دہلا دیا تھا تو بش انتظامیہ نے اپنے فوجیوں کا ان الزامات کے خلاف دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف چھوٹے رینک کے مٹھی بھر فوجی تشدد کے اِن واقعات میں ملوث تھے۔ جمیل جعفر کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کا یہ موقف مسلسل منظر عام پر آنے والے الزامات کے کاغذات سے ثابت نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تقریباً چھ ہفتوں سے ایسی شہادتیں مل رہی ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کے تشدد کے یہ واقعات اکا دکا نہیں تھے جیسا کہ امریکی حکومت مسلسل کہتی چلی آرہی ہے اور دراصل یہ تشدد نہایت منظم انداز میں اور وسیع پیمانے پر ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گروپ کو عراق میں اِس طرح کے تشدد کے واقعات کی شہادتیں صرف ابو غریب جیل ہی سے نہیں بلکہ پورے ملک سے مل رہی ہیں۔ یہ تشدد افعانستان میں بھی ہورہا ہے اور گونتانامو بے میں بھی۔ ان تمام کیسوں کی تفتیش امریکی فوج بذات خود کی ۔ ان میں سے کچھ کیسوں میں تفتیش کاروں کو امریکی فوجیوں پر تشدد کرنے کے الزامات کی مناسب وجوہات بھی ملیں لیکن کچھ الزامات کو ناکافی شہادت کی بنا پر خارج کردیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||