BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 January, 2005, 08:22 GMT 13:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی فوجی کا کورٹ مارشل
تشدد کے واقعات میں ملوث ایک اور فوجی لینڈی انگلینڈ سے گارنر کا ایک بچہ ہے
تشدد کے واقعات میں ملوث ایک اور فوجی لینڈی انگلینڈ سے گارنر کا ایک بچہ ہے
عراق کی ابو غریب جیل میں قید دو مسلمان قیدیوں نے ایک امریکی فوجی کے خلاف گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں توہین آمیز سلوک اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوجی سپیشلسٹ چارلس گارنر کے خلاف کورٹ مارشل میں بیان دیتے ہوئے ایک مصری گواہ نے کہا کہ گارنر ابو غریب کے تشدد کرنے والے امریکی فوجیوں کے سرغنہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ گارنر نے انہیں ان کے عقائد کے خلاف زبردستی سؤر کا گوشت کھلایا گیا اور شراب پینے پر مجبور کیا گیا۔

ایک اور قیدی نے فوجی عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ گارنر نے انہیں دوسرے قیدیوں کے سامنے خود لذتی کرنے پر مجبور کیا۔ گارنر کو جو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، الزامات ثابت ہوجانے کی صورت میں سترہ سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

گارنر پہلے امریکی فوجی ہیں جن کا ابوغریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات میں کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔

گارنر کا کورٹ مارشل ٹیکساس میں ایک فوجی اڈے میں کیا جا رہا ہے۔

حسین موتار کو ایک کار چرانے کے الزام میں ابو غریب جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔ موتار کو سرِ عام خود لذتی کے علاوہ برہنہ قیدیوں کے ڈھیر میں شامل کر دیا گیا تھا۔ ان مناظر کی تصاویر ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ میں دکھائی گئیں تھیں اور ان پر شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

موتار گواہی دیتے ہوئے امریکی فوجی کی طرف سے تشدد کو عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دور سے موازنہ کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ابو غریب کے واقعات نے امریکیوں کے بارے میں رائے عامہ کو بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میرے ساتھ یہ کچھ ہو رہا ہے پھر میرا جی چاہا کہ مجھے موت آ جائے تاکہ مجھے اس ذلت سے نجات حاصل ہو جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمیں اس طرح تشدد کا نشانہ بنارہے تھے جیسے یہ ان کے لیے کوئی کھیل یا ڈرامہ ہو۔‘

مصری جنگجو امین الشیخ نے اعتراف کیا کہ وہ عراق میں امریکی فوج سے لڑنے کے لیے گئے تھے اور وہاں وہ ابو غریب جیل میں امریکی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں شامل ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ اس جھڑپ میں زخمی ہونے کے بعد انہیں جب جیل لے جایا گیا تو گارنر ان کی زخمی ٹانگ پر چڑھ گیا اور پھر اس زخم پر لوہے کی ایک سلاخ سے ٹھیس لگاتا رہا۔

انہوں نے ایک یمنی قیدی کے حوالے سے بتایا کہ گارنر نے اسے بیت الخلاء سے غلاظت اٹھا کر کھانے پر مجبور کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گارنر تشدد سے لطف اندوز ہو رہے تھے تو امین الشیخ نے جواب دیا کہ امریکی فوجی تشدد کر کے قہقہے لگاتے، سیٹیاں بجاتے اور گانے گاتے۔

گارنر کے وکیل نے کہا کہ اس تشدد کا حکم اعلٰی حکام نے دیا تھا۔ گارنر کے وکیل نے امین الشیخ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ امریکیوں سے نفرت کرتا ہے اور یہ دشمن کا اصلی چہرہ ہے۔

گارنر کے ساتھ قیدیوں پر تشدد کے واقعات میں لینڈی انگلینڈ بھی شامل تھیں۔ انگلینڈ سے گارنر کا ایک بچہ ہے۔ انگلینڈ پر بھی قیدیوں سے بدسلوکی اور تشدد کے الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

ٹارچر کی نئی تصاویر(بشکریہ واشنگٹن پوسٹ)قیدیوں پر ٹارچر
عراقی قیدیوں پر امریکی فوجیوں کے تشدد کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد