ظالمانہ تشدد کی سزا، صرف چھ ماہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر غیر انسانی تشدد کرنے کے جرم میں ایک امریکی فوجی کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فوجی کو فوج سے برخاست بھی کر دیا گیا ہے۔ سارجنٹ جوال ڈیوس نے اس ہفتے کے آغاز میں عدالت کے سامنے یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ نہ صرف ہتھکڑی لگے قیدیوں کے ہاتھوں اور پاؤں پر کھڑا ہوتا تھا بلکہ ان کے جسم پر اپنا پورا وزن بھی ڈالتا تھا۔ ٹیکساس کی فوجی عدالت نے چھ گھنٹے تک اس مقدمے کی سماعت کی۔ ستائیس سالہ ڈیوس کو ساڑھے آٹھ برس قید کی سزا کا سامنا تھا مگر استغاثہ سے ایک سمجھوتے کے تحت اسے کم سزا دی گئی۔ اس فوجی پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے گزشتہ برس ابو غریب جیل میں قیدیوں پر کیے جانے والے بہیمانہ تشدد کی تصاویر سے متعلق غلط بیانی کی تھی۔ جوال ڈیوس نے جیوری کے سامنے کہا کہ ’ میں بہت شرمندہ ہوں اور میں ایک مکمل سپاہی نہیں ہوں‘۔ استغاثہ نے عدالت سے ڈیوس کو بارہ سے اٹھارہ ماہ قید کی سزا دینے کی سفارش کی تھی۔جرح کے دوران استغاثہ نے ابو غریب میں ہونے والے تشدد کو ظالمانہ اور بزدلانہ اقدام قرار دیا۔ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والا سارجنٹ جوال ڈیوس نے 2003 کے اواخر میں ابو غریب جیل میں تین ماہ کے لیے محافظ کی ذمہ داری نبھائی تھی۔ وہ ساتواں شخص ہے جسے قیدیوں پرتشدد کے معاملے میں سزا دی گئی ہے۔ ان سات افراد میں سے چھ نے اپنا جرم قبول کر لیا تھا جب کہ ایک شخص کا کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔ ابوغریب میں قیدیوں پر تشدد کرنے والے افراد کے سرغنہ گرینر کو گزشتہ ماہ دس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ اس وقت مزید دو امریکی فوجیوں پر مقدمہ چل رہا ہے۔ ابوغریب جیل میں عراقی قیدیوں پر کیے جانے والے ظالمانہ تشدد کی تصاویر نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||