قیدیوں کے ساتھ زیادتی، تازہ الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کی تحویل میں عراقی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے تازہ ترین الزامات سامنے آئے ہیں۔ قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک سے متعلق امریکی حکومت کے خلاف ایک مقدمے کے دوران کئی ایسے دستاویز سامنے آئے ہیں جن میں امریکی ادارے ایف بی آئی نے ابو غریب جیل سکینڈل کے بعد بھی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین نے حکومت کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا امریکہ قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہا ہے۔ یونین کے سربراہ اینتھنی رومیرو نے کہا ہے کہ ’حکومت کے اعلیٰ اہلکار اب نچلے عہدوں کے فوجیوں پر الزامات لگا کر عوام کی چھان بین سے بچ نہیں سکیں گے‘۔ ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے ابو غریب کے واقعات کے بعد چوبیس جون کو ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر کو بھیجی گئی ایک یاداشت میں عراق میں ’جسمانی تشدد‘ کا ذکر کیا ہے۔ اس میں قیدیوں کے کانوں میں جلتی ہوئی سیگریٹ اور جسمانی تشدد کا تذکرہ ہے۔ ایک اور دستاویز میں کہا گیا ہے کہ صدر بش نے اپنے ایک حکم میں نیند سے محروم رکھنے، فوجی کتوں کا استعمال اور ذہنی اذیتوں جیسے ہتھکنڈوں جی اجازت دی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے تفتیش کے ایسے طریقوں کے بارے میں کوئی احکامات جاری نہیں کیے اور ایف بی آئی کے اہلکار نے ای میل میں جو کچھ لکھا ہے وہ غلط ہے۔ ایک دستاویز میں گونتانومو میں امریکہ کے زیر حراست مشتبہ طالبان اور القاعدہ کے ارکان کو چوبیس گھنٹوں تک بغیر پانی کے بیڑیوں کے ساتھ تکلیف دہ حالت میں رکھنے کا ذکر موجود ہے۔ ایک جگہ پر کہا گیا ہے کہ امریکہ کے نائب وزیر دفاع پال ولف وٹز نے تفتیش کے طریقوں کی اجازت دی تھی۔ تاہم پینٹاگون نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پینٹاگون کے ترجمان برائن وٹمن نے تردید کی کہ نائب وزیر دفاع نے ایسا کوئی اجازت نامہ جاری کیا۔ پینٹاگون نے کہا کہ کچھ الزامات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||