خفیہ عراقی قیدی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈانلڈ رمزفیلڈ کے حکم پرعراق میں تعینات امریکی فوج نے ایک متشبہ دہشت گرد کو خفیہ طور پر قید کر رکھا ہے۔ پچھلے نومبر سے اس عراقی شخص کو بغداد کے قریب واقع ایک اعلیٰ حفاظتی جیل میں مبحوس رکھا جا رہا ہے، مگر نہ تو اسے قیدی نمبر دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی گرفتاری کا کہیں اندراج ہے۔ یہ دونوں چیزیں جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی اس قیدی کے صحیح قانونی مقام کو واضح کریگا اور ریڈ کراس کے ارکان کو اس سے ملنے کی اجازت دے گا۔ ترجمان نےنیو یارک ٹائمز میں چھپی اس رپورٹ کی تصدیق کی جس کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینیٹ نے رمزفیلڈ سے اس قیدی کو خفیہ طور پر قبضے میں رکھنے کو کہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قیدی انصارالاسلام نامی شدت پسند تنظیم کا اعلیٰ رکن ہے۔ امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں اتحادی افواج پر ہوئے حملوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان برائن وٹمین نے اعتراف کیا ہے کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) کو پہلے ہی اس بارے میں اطلاع دے دی جانی چاہئے تھی۔ مارچ میں میجر جنرل انٹونیو ٹگوبا نے عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر ہوئے تشدد پر اپنی رپورٹ میں اس عمل کی مزمت کرتے ہوئے اسے فریب کار اور فوجی اور بین لاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||