قیدیوں پر تشدد کے نئے شواہد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے ایک عدالت کے دباؤ کے تحت عراق میں قیدیوں سے تشدد کے واقعات کی مزید تفصیالات فراہم کی ہیں۔ امریکہ میں شہری آزادیوں کی تنظیم ’سول لبرٹیز یونین‘ کو فراہم کی جانے والی دستاویزات میں قیدیوں سے امریکی فوجیوں کی بدسلوکی اور تشدد کے دس نئے واقعات کا انکشاف ہوا ہے جس کی تصدیق بحریہ کے تفتیش کاروں نے بھی کی ہے۔ ان میں قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے دیئے جانے اور ان کو موت کی سزا دینے کا ڈرامہ کرنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال جون میں بغداد کے شمال میں واقع ایک قید خانے میں چار بچوں کو جنہیں چوری اور لوٹ مار کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ایک گڑھے کے قریب بٹھا دیا گیا اور پستول سے فائرنگ کر کے انھیں موت کی سزا دینے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اس سلسلےمیں تین فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور ان میں سے دو کو تیس دن تک قید بامشقت کی سزا سنائی گئی جبکہ تیسرے کا عہدہ کم کر دیا گیا۔ بحریہ کے تفتیس کاروں نے بہت سے دوسرے واقعات کی تفتیش، مناسب شواہد نہ ہونے کے باعث روک دی۔ عراق کے ابو غریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کی تصاویر شائع ہونے پر انسانی حقوق کی پامالی کے ان واقعات کی بین الاقوامی طور پر مذمت کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||