’قیدیوں پر تشدد کی کہانی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق امریکی فوج کے سپیشل آپریشن یونٹ کے چار اہلکاروں پر عراقی قیدیوں پر بجلی کے جھٹکے پہنچانے والے ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان لارنس ڈیریٹا کا کہنا تھا کہ ان چاروں اہلکاروں کو متبادل ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو قوت کے بے جا استعمال پر سزا دی گئی ہے۔انہوں نے سزاؤں کی نوعیت کے بارے میں تبصرے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عام طور پر ایسی سزا تنزلی اور تنخواہ کی ضبطی پر مشتمل ہوتی ہے۔ وزارتِ دفاع کا یہ بیان ان رپورٹوں کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے کہ امریکی فوج کے ایک اور حصہ سے تعلق رکھنے والے تفتیش کاروں نے ان افراد کو عراقی قیدیوں سےقابلِ اعتراض سلوک کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی تنظیم ’اے سی ایل یو‘ کی حاصل کردہ یاداشتوں کے مطابق امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کے کارکنان کو اس قابلِ اعتراض سلوک کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے کو کہا گیا تھا۔ ان کاغذات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسی نے تفتیش کے طریقوں سے متعلق ایف بی آئی کے خدشات کو نظر انداز کر دیا تھا۔ یہ یاداشتیں ابوغریب جیل کی تصاویر کی اشاعت کے دو ماہ بعد جون میں لکھی گئیں تھیں۔ ان یاداشتوں کے مطابق عراقی جیلوں میں لائے جانے والے قیدیوں کی پشت پر جلنے کے نشانات موجود ہوتے تھے۔ ان کاغذات میں عراق میں موجود امریکی فوجی قیادت اور انٹییلیجنس کے بیچ موجود تناؤ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ اے سی ایل یو کے سربراہ انتھونی رومیرو نے کہا ’ یہ کاغذات خوفناک تشدد کی کہانی سناتے ہیں: ایسا تشدد جو حکومت کی اجازت سے ہوا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے امریکی حکومت نے چھپانے کی کوشش کی‘۔ امریکی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ اس قسم کے درجنوں معاملات پر بریفنگ پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہے۔ امریکی فوجی پولیس کے سات اہلکاروں اور ایک جاسوسی افسر پر اس قابلِ اعتراض سلوک کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ ایک افسر کو قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||