ابو غریب کے علاوہ چار اور جیلیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کہا گیا ہے کہ کیوبا میں امریکی جیل گوانتانامو سے جانے والے فوجی تفتیش کاروں نے عراق کی بدنام ابو غریب جیل میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز میں کہا گیا ہے کہ گوانتانامو جیل سے، جہاں طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ارکان زیر حراست ہیں، گزشتہ سال تفتیش کار عراق بھیجے گئے تھے۔ اخبار کے مطابق یہ فیصلہ گوانتانامو جیل کے سربراہ جنرل جیفری مِلر کا تھا۔ جنرل مِلر کو بھی عراق بھیجا گیا تھا کہ وہ وہاں قیدیوں کی حراست اور ان سے پوچھ گچھ کے طریقوں میں بہتری کے بارے میں مشورہ دے سکیں۔ دریں اثنا امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے کہا ہے کہ انہوں نے سرکاری دستاویزات دیکھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فوج کے خفیہ ادارے نے عراق میں ابو غریب کے علاوہ چار جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اے پی کے مطابق کچھ قیدیوں کو منہ پر مُکّے مارے گئے جبکہ دیگر کو انچاس درجہ حرارت میں نقاب پہنا کر کھڑا رکھا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||