’امریکی جنگ: انسانی حقوق پامال‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر لڑی جانے والی امریکی جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ پر تنقید کرتے ہوئے کی۔ اس جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئِے ایمنسٹی نے کہا ہے کہ اس جنگ کی نہ تو کوئی ’سوچ‘ ہے اور نہ ہی ’اصول‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل آئرین خان نے کہا کہ امریکہ نے اپنے تحفظ کے لیے جو اقدامات کئے ہیں ان کی وجہ سے دنیا نہایت غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی قیمت پر داخلی سلامتی کے لیے کئے جانے والے اقدامات اور بیرونی خطرات کے پیش نظر فوجی قوت کے بے دریغ اور تک طرفہ استعمال سے دنیا کو نہ ہی محفوظ بنایا جا سکا ہے اور نہ ہی لوگوں کو آزادی میسر آئی ہے۔ اس سلسلے میں رپورٹ نے سینکڑوں لوگوں کی مثال دی جنہیں امریکہ نے گوانتانامو، افغانستان اور عراق میں بغیر کسی جرم کے قیدی بنا رکھا ہے۔ القاعدہ جیسی مسلح تنظیموں کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین ، ازبکستان اور پاکستان جیسے ملک دہشت گردی کے خلاف اس مہم کو جواز بنا کر اپنے ملکوں میں جبر کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کی وجہ سے سن دو ہزار تین میں پاکستان میں پانچ سو سے زائد افراد کو گرفتار کرکے امریکی حکام کے حوالے کیا گیا ہے ۔
جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ادارے کے مطابق یہ گرفتاریاں اس شک کی بنیاد پر کی گئیں کہ ان افراد کا تعلق القاعدہ تنظیم سے ہوسکتا ہے۔ سن دو ہزار تین کی اپنی سالانہ رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کی صورتحال پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دو ہزار تین کے آخری نصف کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے صوبے تشددد کی اس لہر کی زد میں رہے۔ ’سینکڑوں افراد کو امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر گرفتار کیا گیا‘۔
’ملک میں خواتین، بچوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو حکومت نے نظر انداز کیا۔ بچوں کو پہلے ہی کی طرح عدالتی کارروائیوں کے لیے زنجیروں میں جکڑ کر لایا جاتا رہا اور انہیں ایسے ججوں کے سامنے پیش کیا گیا جو یہ اختیار نہیں رکھتے تھے۔ کچھ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سزائے موت بھی دی گئی‘۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پولیس اور جیلوں کی نگرانی پر معمور عملہ کے ہاتھوں زیر حراست افراد کے ساتھ برا سلوک معمول کا حصہ رہا جبکہ اصل مجرموں کو قانون کے شکنجے میں نہیں جکڑا گیا‘۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ سرحد میں اظہار رائے کی آزادی نہیں دی گئی جبکہ فن کاروں اور گلوکاروں کو نشانہ بنایا گیا‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم دو سو اٹھہتر کو سزائے موت دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||