گوانتانامو گونج رہا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں بین الاقوامی قانون کا بس نہیں چل رہا وہاں تھیٹر نے کام کر دکھایا ہے۔ گوانتانامو: ہونر باؤنڈ ٹو ڈیفنڈ فریڈم کیوبا میں امریکہ کے فوجی اڈے گوانتانامو بے میں بغیر مقدمے کے حراست میں رکھے ہوئے برطانوی شہریوں کے بارے ایک برطانوی ڈرامہ ہے جنہیں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز میں ہی پکڑ لیا گیا تھا۔ ڈرامہ نگار جیلین سلوو اور وکٹوریہ برٹن نے کہا ہے کہ یہ ڈرامہ ان باتوں پر مبنی ہے جو گوانتانامو کے قیدیوں نے بتائی ہیں یا جو انہوں نے خطوط میں لکھیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نیل ارون کے مطابق ڈرامے میں وہ جرم بلکہ وہ سزا دکھائی گئی ہے جو ان سب آزادیوں کا مذاق اڑاتی ہے جو بظاہر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی وجہ بنی تھیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حراست کی دل ہلا دینے والی تفصیلات بغداد کے ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کے بعد اب اور بھی قابلِ یقین ہو گئی ہیں۔
ڈرامے میں حراست میں لیے گئے لوگ اور ان کے خاندان کے افراد گوانتانامو بے کی داستان سناتے ہیں۔ جمال الحارث جن کا کردار پیٹرک رابنسن نے ادا کیا ہے اور جو ان چار برطانوی باشندوں میں سے ایک ہیں جو گوانتانامو بے سے رہا ہو کر آئے ہیں ایک سین میں کہتے ہیں کہ ’میں مانچیسٹر سے ہوں، میں یہاں کیا کر رہا ہوں‘۔ مسٹر بیگ (بدالزمان) بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کا بیٹا برمنگھم سے افغانستان ایک رضاکارانہ کام کرنے والے امدادی کارکن کے طور پر گیا۔ ڈرامے کے منتظمین اور مسٹر بیگ کے مطابق، جنہوں نے یہ ڈرامہ دیکھا، برطانوی سامعین اور حاضرین زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ برطانیہ کے شہری ہونے کے ناطے جو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے برطانیہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ان قیدیوں کے انسانی حقوق کے لئے امریکہ پر زور ڈال سکے۔ کم از کم چھ برطانوی ابھی بھی گوانتاناموبے میں زیرِ حراست ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||