20 پاکستانیوں کی گوانتانامو سےرہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ اس ماہ کے آخر تک گوانتانامو سے 20 پاکستانی قیدیوں کو رہا کردے گا۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو جلد از جلد رہائی دلانے میں کامیابی حاصل کرے۔ صدر مشرف کی حکومت کو اس معاملے میں بھی بڑھتی ہوئی داخلی تنقید کا سامنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستانی ان سینکڑوں لوگوں میں شامل تھے جنہیں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے کے شعبہ میں گرفتار کیا جائے گا۔ پاکستانی بریگیڈیئر چیمہ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ گوانتانامو بے میں امریکیوں نے چالیس پاکستانیوں کو زیر حراست رکھا ہوا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے بیس کو جاری ماہ کے آخر تک رہا کر دیا جائے گا۔ بریگیڈیئر چیمہ نے اس وفد کی قیادت کی تھی جس نے اسی سال اپریل میں امریکی حکام سے اس بارے میں مذاکرات کیے تھے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اسے پاکستانیوں کی رہائی کے بارے میں کوئی فوری اطلاع نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||