گوانتانامو: برطانوی قیدیوں کی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی اڈے گوانتنامو میں قید برطانیہ کے نو شہریوں کے رشتے دار ان کی رہائی کے لیے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ یہ برطانوی تقریباً دو سال سے حبسِ بے جا میں رکھے گئے ان چھ سو ساٹھ افراد میں شامل ہیں جن پر اب تک نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی الزام سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ نو میں سے پانچ برطانوی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ انہیں منگل کو رہا کر کے برطانیہ کے حوالے کیا جائے گا۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق توقع ہے کہ آتے ہی انہیں برطانوی پولیس اپنی حراست میں لے لے گی جس کے بعد انہیں آکسفرڈ شائر میں شاہی فضائہ کے کے اڈے پر رکھا جائے گا۔ جس کے بعد ان سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے انسدادِ دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے افسران پوچھ گچھ کریں گے اور یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت قید رکھا جائے یا نہیں۔ نو میں سے جن پانچ قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے ان میں پاکستانی نژاد معظم بیگ شامل نہیں ہیں تاہم ان کے والد بھی امریکہ گئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیا توقع کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا ’میرے خیال میں انہیں میرے بیٹے کو بھی رہا کر دینا چاہیے کیونکہ وہ بے قصور ہے اور اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جسے خلافِ قانون قرار دیا جائے، تاہم دوسرا فریق قانون کے مطابق عمل نہیں کر رہا۔ نہ تو میرے بیٹے کو کوئی سہولت دی گئی ہے اور نہ ہی اسے انصاف اور وکیل میسر ہے۔‘ انہوں نے بتایا ’ اب کہا جا رہا ہے کہ اس نے کسی جرم کا اعتراف کر لیا ہے تو اعتراف عدالت میں کیا جاتا ہے نہ کہ اس طرح پردے کے پیچھے۔‘ عظمت بیگ نے بتایا کہ معظم اسکول قائم کرنے کے لیے افغانستان گئے تھے اور ان کے اہلیہ اور ان کے تین بچے بھی ان کے ساتھ تھے اور انہیں اسلام آباد سے ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||