گوانتانامو کمیشن امریکہ روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے میں قید یورپی افراد کے اہل خانہ سنیچر کو امریکہ روانہ ہو رہے ہیں تاکہ صدر بش پر دباؤ ڈالا جا سکے کے ان کے رشتہ داروں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے۔ کیوبا میں امریکی اڈے پر بغیر کسی مقدمے کی کارروائی کے دو سال سے قید تین افراد کے خاندان کے افراد امریکی سیاسی رہنماؤں کو ذاتی پیغامات دیں گے۔ ان کے ساتھ ماضی میں یرغمال رہنے والے ٹیری ویٹ اور اداکار کورن اور ونیسا ریڈگریو بھی ہوں گے۔ یہ جمعیت گوانتانامو ہیومن رائٹس کمیشن کے طور پر امریکہ جائے گی جہاں وہ صدر بش پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ قیدیوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔ گوانتانامو بے میں تقریباً 660 طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ افراد قید ہیں۔ گوانتانامو میں قید معظم بیگ کے والد عظمت بیگ بھی اپنے وکیل کے ساتھ اس جمیعت میں شامل ہیں۔ ایک جرمن اور ایک فرانسیسی قیدی کے بھی رشتہ دار ساتھ جا رہے ہیں۔ ٹیری ویٹ نے، جو کہ پانچ سال بیروت میں یرغمال رہے، کہا کہ ان کے خاندان کو احساس ہے کہ جب کسی پیارے کی کوئی خبر نہ آئے تو کیا حالت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوانتانامو بے کی وجہ سے پوری دنیا میں کئی خاندان اسی حالت سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا ’قیدیوں کے منہ پر نقاب چڑھا دیا جاتا ہے، بیڑیوں سے باندھا جاتا ہے اور میرے علم کے مطابق پنجروں میں رکھا جاتا ہے، جو کہ خود ایک ذہنی اذیت ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||