گوانتانامو سے پانچ برطانوی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو سے رہا کئے جانے والے پانچ برطانوی قیدیوں کے برطانیہ واپس پہنچنے کے بعد ان میں سے ایک کو آزاد کیا جارہا ہے۔ لندن پہنچتے ہی انہیں پانچوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ برطانیہ سے رہائی پانے والے شخص جمال الحارث کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کو کچھ دیر بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمال جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں اتنے عرصہ حراست میں رکھنے کا کیا جواز ہے۔ جمال الحارث ، جمال الدین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ چار کو دہشت گردی کی ان دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا جو دہشت گردی کو ہوا دینے یا ایسی کارروائیوں میں مدد کرنے سے متعلق ہیں جبکہ پانچویں کو سرحدی حدود کے قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ امریکہ نے ان پانچوں کو یہ کہہ کر گوانتانامو ںے رہا کیا ہے کہ اب وہ امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔ چار مزید برطانوی شہری ابھی گوانتا نامو میں قید ہیں۔ گزشتہ روز برطانیہ کے وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکِٹ نے اعلان کیا تھا کہ کیوبا میں گوانتانامو کے امریکی فوجی اڈے سے رہا کئے جانے والے پانچ برطانوی قیدی اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر برطانیہ پہنچ جائیں گے۔ امریکہ میں جاری کئے گئے اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ آمد پر ان پر عمومی قانونی کارروائی لاگو ہوگی۔ ڈیوڈ بلنکِٹ کا کہنا تھا کہ برطانیہ پہنچنے کے بعد ان افراد سے انسداد دہشت گردی کے اعلٰی اہلکار پوچھ گچھ کریں گے۔ برطانوی وزیر داخلہ صدر بش کے سکیورٹی کے مشیر سے ملاقات کے لئے امریکہ کے دورے پر ہیں۔ ان پانچ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیوبا میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ کی جانب سے صدر بش کو ایک احتجاجی خط لکھے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ دریں اثناء کئی زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے واشنگٹن میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے ساتھ منصفانہ سلوک روا رکھا جائے۔ کئی برطانوی افراد گوانتانامو کے قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے لئے برطانیہ سے امریکہ گئے تھے۔ گوانتانامو میں قید نو برطانوی تقریباً دو سال سے حبسِ بے جا میں رکھے گئے ان چھ سو ساٹھ افراد میں شامل ہیں جن پر اب تک نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی الزام سے آگاہ کیا گیا ہے۔
یہ مظاہرہ واشنگٹن میں سپریم کورٹ کے سامنے کیا گیا تھا اور احتجاج شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی شہری حقوق کی تنظیموں کے کارکن بھی مظاہرین میں شامل ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوانتانامو کے قیدیوں پر سرکاری طور پر مقدمہ چلایا جائے، بصورت دیگر انہیں رہا کردیا جائے۔ مظاہرین میں ٹیری ویٹ بھی شامل تھےجنہیں لبنان میں خانہ جنگی کے دوران کئی برس تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر بیتنے والے حالات و واقعات کا موازنہ گوانتانامو کے قیدیوں سے کیا۔ ٹیری ویٹ نے کہا کہ یہ حراستی کیمپ آزادی کے لئے بہت بڑی تباہی ہے اور یہ امریکہ کی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کررہا ہے۔ برطانوی شہریت رکھنے والے نو میں سے جن پانچ قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے ان میں پاکستانی نژاد معظم بیگ شامل نہیں ہیں تاہم ان کے والد بھی امریکہ گئے تھے۔ معظم کے والد کا کہنا تھا ’انہیں میرے بیٹے کو بھی رہا کر دینا چاہیے کیونکہ وہ بے قصور ہے اور اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جسے خلافِ قانون قرار دیا جائے، تاہم دوسرا فریق قانون کے مطابق عمل نہیں کر رہا۔ نہ تو میرے بیٹے کو کوئی سہولت دی گئی ہے اور نہ ہی اسے انصاف اور وکیل میسر ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ معظم اسکول قائم کرنے کے لیے افغانستان گئے تھے اور ان کے اہلیہ اور ان کے تین بچے بھی ان کے ساتھ تھے اور انہیں اسلام آباد سے ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے صدر بش کو احتجاجی خطوط لکھنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ وہ صدر بش کے سکیورٹی کے مشیر سے ملاقات کے دوران گوانتانامو میں زیر حراست افراد کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||