’غیرخطرناک‘ اسیروں کی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے کہا ہے کہ ایک تین رکنی پینل ہر سال گوانتانامو بے میں قید مشتبہ طالبان اور القاعدہ ارکان کی اسیری کا جائزہ لے گا اور اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا یہ قیدی امریکہ کے لئے اب بھی خطرہ ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ جن اسیروں کے بارے میں اطمینان ہو جائے کہ وہ خطرہ نہیں رہے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ افغانستان اور دوسرے ملکوں سے تقریباً ساڑھے چھ سو مشتبہ طالبان اور القاعدہ ارکان کو گرفتار کرنے کے بعد کیوبا کے خلیج گوانتانامو میں قائم امریکی بندی خانے میں انتہائی کڑے پہرے میں رکھا گیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظمیوں اور بعض ممالک نے امریکہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں کو بنا مقدمہ چلائے قید میں اور وکیل تک رسائی کے حق سے محروم رکھنا حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ لوگ غیرقانونی حملہ آور ہیں اس لئے انہیں جنگی قیدیوں کے حقوق حاصل نہیں ہیں اور ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانا درست ہوگا۔ امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے اسیران گوانتانامو کی اسیری کا جائزہ لینے والا پینل انٹیلیجنس تجزیہ کاروں اور تفتیش کاروں پر مشتمل ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جائزے سے پہلے کیا ان لوگوں کو وکیل تک رسائی دی جائے گی تو ترجمان نے کہا کہ پینل کے طریقۂ کار کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو کچھ نہ کچھ حق ضرور دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||